حدیث نمبر: 1176
1176 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَيَّانَ، قَالَتْ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ» مُخْتَصَرٌ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت تو بھوک (میں دودھ پینے) سے ہوتی ہے۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔
حدیث نمبر: 1177
1177 - وأنا ابْنُ السِّمْسَارِ، أنا أَبُو زَيْدٍ، نا الْفَرَبْرِيُّ، أنا الْبُخَارِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، بِإِسْنَادِهِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: «يَا عَائِشَةُ انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ روایت اشعث سے ایک دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے انہوں نے اسے بیان کیا اور اس میں یوں ہے: ”عائشہ! دیکھ لیا کرو کہ کون تمہارے (رضاعی) بھائی ہیں کیونکہ رضاعت تو بھوک (میں دودھ پینے) سے ہوتی ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
رضاعت سے مراد دودھ پلانا ہے یعنی جب بچے کو ماں کے علاوہ کوئی دوسری عورت اپنا دودھ پلائے تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جائے گی۔ رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں یعنی رضاعی ماں کی نسبی و رضاعی اولاد اس بچے کے بہن بھائی، رضاعی ماں کا شوہر اس کا رضاعی باپ، رضاعی باپ کے بہن بھائی اس کے رضاعی چچا تایا اور پھوپھیاں جبکہ رضاعی ماں کے بہن بھائی اس بچے کے رضاعی ماموں اور شمار ہوں گی۔
رضاعت کون سی معتبر ہے؟ اس سلسلے میں چند باتیں ملاحظہ فرمائیں: ① بچے نے اپنی دودھ پینے کی عمر میں دودھ پیا ہو۔ دودھ پینے کی عمر دو سال ہے، اس کے بعد بچہ روٹی سالن اور دیگر خوراک سے اپنی بھوک مٹانے لگتا ہے لہٰذا اس وقت دودھ پینے کا اعتبار نہیں سوائے کسی استثنائی صورت کے۔
② بچے نے دودھ اتنی مقدار میں پیا ہو کہ جس سے اس کی بھوک مٹ گئی ہو، اس کی وضاحت دوسری حدیث میں یوں ہے کہ اس نے پانچ مرتبہ دودھ پیا ہو۔ (مسلم: 1452) یعنی بچہ چھاتی منہ میں لے کر دودھ پیتا رہے اور پھر اپنی مرضی سے اسے چھوڑ دے تو یہ ایک بار دودھ پینا ہوا اسی طرح وہ پانچ مرتبہ دودھ پیئے گا تو رضاعت ثابت ہوگی ورنہ نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے ”ضمیمہ تفسیر احسن البیان“ بعنوان ”رضاعت کے چند ضروری مسائل“ از حافظ صلاح الدین یوسف رحمه اللہ۔
رضاعت سے مراد دودھ پلانا ہے یعنی جب بچے کو ماں کے علاوہ کوئی دوسری عورت اپنا دودھ پلائے تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جائے گی۔ رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں یعنی رضاعی ماں کی نسبی و رضاعی اولاد اس بچے کے بہن بھائی، رضاعی ماں کا شوہر اس کا رضاعی باپ، رضاعی باپ کے بہن بھائی اس کے رضاعی چچا تایا اور پھوپھیاں جبکہ رضاعی ماں کے بہن بھائی اس بچے کے رضاعی ماموں اور شمار ہوں گی۔
رضاعت کون سی معتبر ہے؟ اس سلسلے میں چند باتیں ملاحظہ فرمائیں: ① بچے نے اپنی دودھ پینے کی عمر میں دودھ پیا ہو۔ دودھ پینے کی عمر دو سال ہے، اس کے بعد بچہ روٹی سالن اور دیگر خوراک سے اپنی بھوک مٹانے لگتا ہے لہٰذا اس وقت دودھ پینے کا اعتبار نہیں سوائے کسی استثنائی صورت کے۔
② بچے نے دودھ اتنی مقدار میں پیا ہو کہ جس سے اس کی بھوک مٹ گئی ہو، اس کی وضاحت دوسری حدیث میں یوں ہے کہ اس نے پانچ مرتبہ دودھ پیا ہو۔ (مسلم: 1452) یعنی بچہ چھاتی منہ میں لے کر دودھ پیتا رہے اور پھر اپنی مرضی سے اسے چھوڑ دے تو یہ ایک بار دودھ پینا ہوا اسی طرح وہ پانچ مرتبہ دودھ پیئے گا تو رضاعت ثابت ہوگی ورنہ نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے ”ضمیمہ تفسیر احسن البیان“ بعنوان ”رضاعت کے چند ضروری مسائل“ از حافظ صلاح الدین یوسف رحمه اللہ۔