کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: دنیا میں آزمائش اور فتنہ ہی باقی رہ گیا ہے
حدیث نمبر: 1175
1175 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أبنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، أبنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، أبنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أبنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ رَبِّ الْعِزَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ، وَإِنَّمَا مَثَلُ عَمَلِ أَحَدِكُمْ كَمَثَلِ الْوِعَاءِ إِذَا طَابَ أَعْلَاهُ طَابَ أَسْفَلُهُ، وَإِذَا خَبُثَ أَعْلَاهُ خَبُثَ أَسْفَلُهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابوعبد رب العزت کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میں آزمائش اور فتنہ ہی باقی رہ گیا ہے اور تم میں سے ہر ایک کے عمل کی مثال اس برتن کی سی ہے جس (کے مشروب) کا اگر اوپر والا حصہ پاک ہو تو نیچے والا بھی پاک ہوگا اور اگر اوپر والا ناپاک ہو تو نیچے والا بھی ناپاک ہو گا۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ عقریب دنیا کا بہترین دور یعنی خیر القرون ختم ہونے والا ہے اور جب خیر القرون ختم ہو جائے گا تو پھر دنیا میں سوائے امتحانوں، آزمائشوں اور فتنوں کے کوئی چیز باقی نہ رہے گی، ہر طرف فتنے ہی فتنے دکھائی دیں گے آج دیکھ لیں کہ دنیا میں بس آزمائش اور فتنے ہی رہ گئے ہیں اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیں تو بات بہت جلد سمجھ میں آجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1175
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه الزهد لابن المبارك : 596 ، أحمد : ، مسند الشامين : 607 ، 608»