کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: مجھے تو اپنی امت پر گمراہ آئمہ کا خطرہ ہے
حدیث نمبر: 1166
1166 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الْفَرَّاءُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّافِقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَضِرِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَزَّارُ، ثنا سِيدَانُ بْنُ مُضَارِبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو اپنی امت پر گمراہ آئمہ کا خطرہ ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کرنے اور ان کے دین کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی جو چیز ہے وہ مسلمانوں کی قیادت و رہبری اور پیشوائی کرنے والے لیڈروں خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، کا گمراہ ہوتا ہے کیونکہ انفرادی حیثیت میں کسی بھی شخص کے گمراہ ہونے کا نقصان اس کی ذات تک محدود رہتا ہے لیکن قائد اور لیڈر کی گمراہی کا نقصان پوری قوم اور جماعت کو متاثر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1166
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه أبو داود : 4252 ، والترمذي : 2229 ، ابن ماجه : 3952 ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22828»