حدیث نمبر: 1158
1158 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمَيْمُونِ الْكَاتِبُ، أبنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حَفْصٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ اس کا جواب دیتے تھے لیکن جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے تو ہم نے پہلے کی طرح سلام کیا لیکن آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا بلکہ نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: ”بے شک نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔“
مطلب یہ ہے کہ نماز میں بندہ قرأت، ذکر و اذکار اور دعا و مناجات میں مشغول ہوتا ہے اس لیے کسی اور کی طرف متوجہ ہونا جائز نہیں سوائے اس کے جس کی شریعت نے اجازت دی ہو۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ دوران نماز جان بوجھ کر کسی سے کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ اس کا جواب دیتے تھے لیکن جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے تو ہم نے پہلے کی طرح سلام کیا لیکن آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا بلکہ نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: ”بے شک نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔“
مطلب یہ ہے کہ نماز میں بندہ قرأت، ذکر و اذکار اور دعا و مناجات میں مشغول ہوتا ہے اس لیے کسی اور کی طرف متوجہ ہونا جائز نہیں سوائے اس کے جس کی شریعت نے اجازت دی ہو۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ دوران نماز جان بوجھ کر کسی سے کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔