کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: بے شک تو اللہ سے ڈر کر جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائے گا
حدیث نمبر: 1135
1135 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، ثنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، أبنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، أبنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أبنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي الدَّهْمَاءِ، قَالَا: أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلِّمَنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، فَكَانَ مِمَّا حَفِظْتُهُ عَنْهُ: «إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابوقتادہ اور ابودہماء کہتے ہیں کہ ہم ایک دیہاتی شخص کے پاس آئے تو اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے ان باتوں کی تعلیم فرمائی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی تھیں چنانچہ جو باتیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سن کر) یاد کیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی: ”بے شک تو اللہ سے ڈر کر جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1135
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسند أحمد : 78/5 ، الزهد لابن المبارك : 1168 ، شعب الايمان : 5364»
حدیث نمبر: 1136
1136 - أنا بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا ابْنُ عَفَّانَ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، نا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَفِيهِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي بِلَالٍ رَجُلٌ قَدْ سَمَّاهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی حمید بن ہلال سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ یہ حدیث ابوقتادہ اور ابوبلال سے مروی ہے، اس آدمی کا انہوں نے نام بھی لیا۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1136
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن»
حدیث نمبر: 1137
1137 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْبَزَّازُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا سُفْيَانُ، نا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُلْقِيَ لَهُ مِنْبَرٌ خَلَتْ قَوَائِمُهُ مِنْ حَدِيدٍ، فَحَفِظْتُ مِمَّا عَلَّمَنِي أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، إِلَّا أَثَابَكَ اللَّهُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
حمید بن ہلال ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک منبر رکھا گیا تھا جس کے پائے لوہے کے تھے، آپ نے مجھے جو تعلیم فرمائی میں نے یاد کر لی آپ نے فرمایا تھا: ”بے شک تو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس کے بدلے میں بہتر چیز عطا فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1137
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن»
حدیث نمبر: 1138
1138 - نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُسَدَّدٌ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنِ الَّذِي، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَمَّنْ سَمِعَهُ مِنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَنَزَلَ وَأُلْقِيَ لَهُ كُرْسِيُّ قَوَائِمُهُ حَدِيدٌ فَقَالَ: «إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ إِلَّا بَدَّلَكَ اللَّهُ مَكَانَهُ خَيْرًا مِنْهُ» قَالَ رِفَاعَةُ الْعَدَوِيُّ: «انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا، قَالَ فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى عَلَى خُطْبَتِهِ فَأَتَى عَلَيْهَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
حمید بن ہلال اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا یا آپ سے سنا تھا۔ اس نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ نے جو آپ کو علم عطا فرمایا ہے اس میں سے مجھے بھی تعلیم فرما دیجیے۔ آپ (منبر سے) نیچے تشریف لائے اور آپ کے لیے کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ایک کرسی رکھی گئی جس کے پائے لوہے کے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تو اللہ سے ڈر کر جس چیز کو چھوڑے گا اللہ بدلے میں تجھے اس کی جگہ اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔“ رفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک اجنبی آدمی ہوں، آپ سے دین کے سلسلے میں کچھ پوچھنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، دین کے متعلق معلومات نہیں رکھتا، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) نیچے تشریف لائے آپ نے اپنا خطبہ منقطع فرما دیا پھر کھجور کی چھال سے بنی ہوئی ایک کرسی لائی گئی جس کے پائے لوہے کے تھے آپ مجھے تعلیم فرمانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا تھا پھر آپ (دوبارہ) اپنے خطبہ کے لیے (منبر پر) تشریف لے گئے۔
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو بندہ محض اللہ تعالیٰ ٰ سے ڈر کر صرف اس کی رضا کے لیے کسی حرام چیز کو چھوڑ دے یا فساد سے بچنے کی خاطر اپنے کسی حق سے دستبرداری اختیار کر لے یا مشکوک اور مشتبہ چیزوں سے اپنا دامن بچالے تو اللہ تعالیٰ ٰ اسے عزت وسرفرازی سے نوازے گا اسے آخرت میں بھی صلہ دے گا اور دنیا میں بھی نعم البدل سے نوازے گا۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1138
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن»