کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: بے شک میں تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر (تمہیں ) جہنم سے روک رہا ہوں
حدیث نمبر: 1128
1128 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أبنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَتَقَاحَمُونَ فِيهَا تَقَاحُمَ الْفَرَاشِ وَالْجَنَادِبِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میں تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر (تمہیں) جہنم سے روک رہا ہوں اور تم اس میں اس طرح گرتے جا رہے ہو جیسے پتنگے اور برساتی کیڑے (آگ میں) گرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1129
1129 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ، هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَالِبٍ، إِجَازَةً، أنا الْحَسَنُ بْنُ خَلَّادٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، نا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَتَقَاحَمُونَ فِيهَا تَقَاحُمَ الْفَرَاشِ وَالْجَنَادِبِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میں (تمہیں) تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر جہنم سے روک رہا ہوں اور تم اس میں اس طرح گرے جا رہے ہو جیسے پتنگے اور برساتی کیڑے (آگ میں) گرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1130
1130 - أنا تُرَابُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو، بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْإِمَامِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَالَا: نا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُفَسِّرِ، نا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الْقَاضِي، نا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، نا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ، عَنْ حَفْصِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ هَلُمَّ عَنِ النَّارِ وَتَغْلِبُونِي، تَقَاحَمُونَ فِيهَا تَقَاحُمَ الْفَرَاشِ وَالْجَنَادِبِ، أُوشِكُ أَنْ أُرْسِلَ حُجَزَكُمْ وَأَفْرِطَ لَكُمْ عَنْ - أَوْ عَلَى - الْحَوْضِ - الشَّكُّ مِنْ مَالِكٍ - وَسَتَرِدُونَ عَلَيَّ مَعًا وَأَشْتَاتًا فَأَعْرِفُكُمْ بِأَسْمَائِكُمْ وَسِيمَاكُمْ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ الْغَرِيبَةَ مِنَ الْإِبِلِ فِي إِبِلِهِ، وَيُذْهَبُ بِكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، وَأُنَاشِدُ فِيكُمْ رَبَّ الْعَالَمِينَ فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ رَهْطِي، أَيْ رَبِّ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَمْشُونَ بَعْدَكَ الْقَهْقَرَى، فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ شَاةً لَهَا يُعَارٌ أَوْ يُنَادِي: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ بَلَّغْتُ وَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، يُنَادِي: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ بَلَّغْتُ، وَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ فَرَسًا لَهُ حَمْحَمَةٌ، يُنَادِي: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ بَلَّغْتُ، وَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ قَشْعًا مِنْ أَدَمٍ يُنَادِي: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میں تمہاری کمریں پکڑ رہا ہوں کہ آگ سے پرے ہٹ جاؤ لیکن تم زبردستی اس میں گر رہے ہو جیسے پتنگے اور برساتی کیڑے (آگ میں) گرتے ہیں۔ قریب ہے کہ تمہاری کمریں چھوڑ دی جائیں اور (سنو) میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا، وہاں تم الگ الگ اور اکٹھے ہو کر آؤ گے، میں تمہیں تمہاری نشانیوں اور ناموں سے پہچان لوں گا جیسے آدمی اپنے اونٹوں میں سے اجنبی اونٹ کو (آسانی سے) پہچان لیتا ہے اور تمہیں بائیں جانب لے جایا جا رہا ہوگا میں تمہارے بارے میں رب العالمین کی منت سماجت کرتے ہوئے عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میری امت کے لوگ ہیں، اے میرے رب! یہ میری امت ہے، تو ارشاد ہوگا: بے شک آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں نکالی تھیں، بے شک یہ آپ کے بعد الٹے پاؤں (دین سے) لوٹتے ہی رہے۔ (سنو!) میں تم میں سے اس شخص کو بھی ضرور پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ممیاتی بکری اٹھائے ہوگا اور پکار پکار کر کہے گا: اے محمد! اے محمد! میں کہوں گا: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تو (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا تھا۔ اور میں تم میں سے اس شخص کو بھی ضرور پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ بلبلاتے اونٹ کو اٹھائے ہوگا، پکارے گا: اے محمد! اے محمد! لیکن میں کہوں گا: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تو (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا تھا۔ اور میں تم میں سے اس شخص کو بھی ضرور پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ہنہناتے گھوڑے کو اٹھائے ہوگا، پکارے گا: اے محمد! اے محمد! لیکن میں کہوں گا: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تو (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا تھا۔ اور میں تم میں سے اس شخص کو بھی ضرور پہچان لوں گا جو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ پانی کا مشکیزہ اٹھائے ہوگا، پکارے گا: اے محمد! اے محمد! لیکن میں کہوں گا: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تو (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 1131
1131 - أنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْجِرَابِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، نا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُتَطَلِّعٌ، أَلَا وَإِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ لَا تَهَافَتُوا فِي النَّارِ تَهَافُتَ الْفَرَاشِ وَالذُّبَابِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے جس چیز کو بھی حرام ٹھہرایا ہے یقیناً اس کے علم میں ہے کہ اسے تم میں سے جھانکنے والا ضرور جھانک کر دیکھے گا، خبردار! بے شک میں تمہاری کمریں پکڑ کر تمہیں آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں (اور تم ایسے گر رہے ہو) جیسے پتنگے اور برساتی کیڑے (آگ میں) گرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1132
1132 - نا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا سُفْيَانُ، نا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفِرَاشَ وَالدَّوَابَّ يَتَقَحَّمُونَ فِيهَا، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میری اور تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب اس (آگ) نے اس کا اردگرد روشن کر دیا تو پتنگے اور دوسرے جانور جو آگ میں گرتے ہیں، آکر اس میں گرنے لگے، پس میں تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ (میں گرنے) سے روک رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں گرے جا رہے ہو۔“
حدیث نمبر: 1133
1133 - نا أَبُو مُحَمَّدٍ، نا إِسْمَاعِيلُ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَالِي آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا معاویہ بن حمیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کیا ہے کہ میں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر (تمہیں) آگ سے بچا رہا ہوں۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس غایت درجے کی شفقت اور حرص کا بیان ہے جو اپنی امت کے ایمان لانے کے بارے میں آپ کے دل میں تھی اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کی بدبختی کا ذکر بھی ہے کہ آپ کی مخلصانہ کوشش، شفقت اور شدید حرص کے باوجود لوگ ایمان سے محروم رہنے کی وجہ سے کثرت سے جہنم کا ایندھن بنیں گے جس طرح پروانے کود کود کر آگ میں گرتے ہیں۔“ (ریاض الصالحین: 181/1)
ان احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس غایت درجے کی شفقت اور حرص کا بیان ہے جو اپنی امت کے ایمان لانے کے بارے میں آپ کے دل میں تھی اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کی بدبختی کا ذکر بھی ہے کہ آپ کی مخلصانہ کوشش، شفقت اور شدید حرص کے باوجود لوگ ایمان سے محروم رہنے کی وجہ سے کثرت سے جہنم کا ایندھن بنیں گے جس طرح پروانے کود کود کر آگ میں گرتے ہیں۔“ (ریاض الصالحین: 181/1)