کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: بے شک الله عز وجل جب کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا سے تو انہیں آزمائش میں ڈال دیتا ہے
حدیث نمبر: 1120
1120 - حَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ عَبْدُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَرَوِيُّ، إِجَازَةً، أبنا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَهْدِيٍّ الدَّارَقُطْنِيُّ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ قَالَ: رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ بِقَوْمٍ خَيْرًا ابْتَلَاهُمْ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ عز و جل جب کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1121
1121 - أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو إِبْرَاهِيمَ أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْمَيْمُونِ بْنِ حَمْزَةَ الْحُسَيْنِيُّ، أبنا جَدِّي الْمَيْمُونُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَسَّالُ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخَطَ فَلَهُ السَّخَطُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بڑا ثواب بڑی آزمائش کے ساتھ ہے اور بے شک اللہ عز و جل جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں ڈال دیتا ہے پھر جو (آزمائش پر) راضی رہا تو اس کے لیے خوشنودی ہے اور جو ناراض ہوا اس کے لیے ناراضی ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جس مسلمان کو بھی جسمانی تکلیف میں مبتلا فرماتا ہے تو جب تک وہ بیمار رہے اس کے لیے ان اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے جو وہ حالت صحت میں کرتا تھا پھر اگر اللہ اسے عافیت دے دے تو میرا (یعنی راوی حدیث کا) خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (گناہوں سے) دھو دیتا ہے اور اگر فوت کر دے تو بخش دیتا ہے۔“ (الادب المفرد: 501، وسندہ حسن)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جس مسلمان کو بھی جسمانی تکلیف میں مبتلا فرماتا ہے تو جب تک وہ بیمار رہے اس کے لیے ان اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے جو وہ حالت صحت میں کرتا تھا پھر اگر اللہ اسے عافیت دے دے تو میرا (یعنی راوی حدیث کا) خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (گناہوں سے) دھو دیتا ہے اور اگر فوت کر دے تو بخش دیتا ہے۔“ (الادب المفرد: 501، وسندہ حسن)