کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: بے شک اللہ تعالیٰ ٰ بندے سے حیا کرتا ہے کہ وہ (بندہ) اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھائے اور وہ (اللہ ) انہیں خالی لوٹا دے
حدیث نمبر: 1110
1110 - أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِي، ثنا أَبُو الْحَسَنِ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِهْرَانَ إِمْلَاءً، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعْبَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْأَهْوَازِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْعَبْدِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ بندے سے حیا کرتا ہے کہ وہ (بندہ) اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھائے اور وہ (اللہ) انہیں خالی لوٹا دے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1110
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه أبو داود : 1488 ، ترمذي : 3556 ، ابن ماجه : 3865 ، آمالي لمحاملي : 433»
حدیث نمبر: 1111
1111 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُدْفُوِيُّ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ الْجُرَيْرِيُّ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّبَرِيُّ، نا ابْنُ الْمُثَنَّى، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرٍ، يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تمہارا رب بڑا باحیا اور سخی ہے وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے جب وہ اس کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے کہ انہیں خالی لوٹائے۔“
وضاحت:
تشریح: -
① اللہ تعالیٰ ٰ بندے کی ہر دعا قبول فرماتا ہے بشرطیکہ کوئی ایسی وجہ موجود نہ ہو جو قبولیت کے راستے میں رکاوٹ ہو لیکن قبولیت کا اثر بعض اوقات دنیا میں ظاہر ہوتا ہے اور بعض اوقات آخرت میں۔
② دعا کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے چاہئیں۔
③ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی صفت علو کا اثبات ہے یعنی وہ اپنی ذات کے لحاظ سے عرش پر مستوی ہے ہر جگہ موجود نہیں البتہ اس کا علم اس کی قدرت اور رحمت ہر شئے کو محیط ہے۔ [سنن ابن ماجه: 5/ 205]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1111
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه أبو داود : 1488 ، ترمذي : 3556 ، ابن ماجه : 3865 ، آمالي لمحاملي : 433»