کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: جو کھانا کھائے تو اس پر اس (اللہ ) کی حمد کرے یا مشروب پیئے تو اس پر بھی اس (اللہ ) کی حمد کرے
حدیث نمبر: 1098
1098 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الصَّفَّارِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْحَاقَ النَّاقِدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو سَلَامَةَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا» ، وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنِ نُمَيْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِإِسْنَادٍ مِثْلَهُ، وَفِيهِ «أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو کھانا کھائے یا مشروب پیئے تو اس پر اللہ کی حمد کرے۔“ اسے مسلم بن حجاج نے بھی اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں ہے: ”جو کھانا کھائے تو اس پر اس (اللہ) کی حمد کرے یا مشروب پیئے تو اس پر بھی اس (اللہ) کی حمد کرے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1098
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2734، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2078، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6872، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1816، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12155»
حدیث نمبر: 1099
1099 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّارُ، أنا أَبُو سَعِيدٍ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَلَيْهَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ اس بندے سے خوش ہوتا ہے جو کھانا کھائے تو اس پر اللہ کی حمد کرے یا مشروب پیئے تو اس پر اللہ کی حمد کرے۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کھانا کھا کر فارغ ہو یا کوئی چیز پیئے اور پھر اللہ تعالیٰ ٰ کا شکر ادا کرے، اس کی حمد و ثنأ بیان کرے، تو اللہ تعالیٰ ٰ اپنے بندے کے اس عمل پر خوش ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:«الْحَمْدُ لِلهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں بہت زیادہ نہایت پاکیزہ برکت والی (تعریفیں) ہم اس کھانے کا پوری طرح حق ادا نہ کر سکے اور یہ ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں کیا گیا (اور یہ اس لیے پڑھا تاکہ) اس سے ہم کو بے پرواہی کا خیال نہ ہو۔ اے ہمارے رب!۔ [بخاري: 5458]
ایک دوسری دعا بھی مروی ہے: «الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ» سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری قوت و طاقت کے مجھے رزق نصیب فرمایا۔ [ترمذي: 3458، وسنده حسن]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ کھانے کے بعد یہ دعا پڑھے گا اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائی گے۔ (ایضاً)
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1099
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2734، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2078، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6872، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1816، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12155»