کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: بے شک اللہ تعالیٰ ٰ اس دین کی فاجر شخص کے ذریعے بھی مدد کرے گا
حدیث نمبر: 1096
1096 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا نعمان بن عمرو بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی فاجر شخص کے ذریعے بھی مدد کرے گا۔“
حدیث نمبر: 1097
1097 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أبنا مَعْمَرُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ , وَإِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ خیبر میں شریک ہوئے اور انہوں نے اس حدیث کو طوالت کے ساتھ ذکر کیا اور اس کے آخر میں یہ الفاظ تھے: ”جنت میں صرف مسلمان شخص داخل ہوگا اور بے شک اللہ اس دین کی فاجر شخص کے ذریعے بھی مدد کرے گا۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ٰ دین اسلام کی تقویت اور تائید کا کام کسی فاجر و فاسق شخص سے بھی لے سکتا ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ کسی فاسق و فاجر شخص سے اشاعت دین کے سلسلے میں بوقت ضرورت مدد لینا جائز ہے، باقی جہاں تک صحیح مسلم (1817) کی روایت کہ ”میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہ لوں گا۔ “ کا تعلق ہے تو وہ ایک موقع کے ساتھ خاص ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ٰ دین اسلام کی تقویت اور تائید کا کام کسی فاجر و فاسق شخص سے بھی لے سکتا ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ کسی فاسق و فاجر شخص سے اشاعت دین کے سلسلے میں بوقت ضرورت مدد لینا جائز ہے، باقی جہاں تک صحیح مسلم (1817) کی روایت کہ ”میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہ لوں گا۔ “ کا تعلق ہے تو وہ ایک موقع کے ساتھ خاص ہے۔