حدیث نمبر: 1088
1088 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْخَصِيبُ، أبنا أَبُو أَحْمَدَ، مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ قَالَ: ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ، أُرَاهُ قَالَ: ثنا الْمَرْوَرُوذِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ يُمْلِي عَلَيَّ وَأَنَا أَكْتُبُ، بِيَدِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ عَنْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
وراد کہتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، وہ مجھے املاء کروا رہے تھے اور میں اپنے ہاتھ سے لکھ رہا تھا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تمہیں قیل و قال، مال ضائع کرنے اور کثرت سوال سے منع کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1089
1089 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَاتَبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
شعبی کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ آپ مجھے ایسی حدیث لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو چنانچہ انہوں نے ان کی طرف یہ لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”بے شک اللہ نے تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کی ہیں: قیل و قال، مال ضائع کرنا اور کثرت سوال۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں اللہ تعالیٰ ٰ کی تین ناپسندیدہ باتوں کا بیان ہے: ① قیل و قال: یعنی فضول اور بے فائدہ بحث جس کا نہ کوئی دنیاوی فائدہ ہو اور نہ اخروی۔ اللہ تعالیٰ ٰ نے اس سے منع کیا ہے کیونکہ لا یعنی ہاتوں اور فضول بحث سے پر ہیز کرنا مومن کی صفت ہے۔
② اضاعت مال: یعنی فضول خرچی، ایسی جگہوں پر مال خرچ کرنا جہاں دنیا وآخرت کے شرعی مقاصد میں سے کوئی مقصد حاصل نہ ہو اضاعت مال یعنی مال ضائع کرتا ہے اور یہ انسان کی بڑی حماقت اور بے وقوفی ہے کہ وہ اپنے مال کو ایسی جگہوں پر خرچ کرے جہاں خرچ کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہو۔
③ کثرت سوال: اس سے مراد ایک تو یہ ہے کہ لوگوں سے ان کے اموال کا بکثرت سوال نہ کیا جائے یعنی بھیک مانگنا اور دوسرا یہ ہے کہ ایسے بے فائدہ اور عبث سوالات نہ کیے جائیں جن کا ہدایت کے ساتھ تعلق نہیں۔
ان احادیث میں اللہ تعالیٰ ٰ کی تین ناپسندیدہ باتوں کا بیان ہے: ① قیل و قال: یعنی فضول اور بے فائدہ بحث جس کا نہ کوئی دنیاوی فائدہ ہو اور نہ اخروی۔ اللہ تعالیٰ ٰ نے اس سے منع کیا ہے کیونکہ لا یعنی ہاتوں اور فضول بحث سے پر ہیز کرنا مومن کی صفت ہے۔
② اضاعت مال: یعنی فضول خرچی، ایسی جگہوں پر مال خرچ کرنا جہاں دنیا وآخرت کے شرعی مقاصد میں سے کوئی مقصد حاصل نہ ہو اضاعت مال یعنی مال ضائع کرتا ہے اور یہ انسان کی بڑی حماقت اور بے وقوفی ہے کہ وہ اپنے مال کو ایسی جگہوں پر خرچ کرے جہاں خرچ کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہو۔
③ کثرت سوال: اس سے مراد ایک تو یہ ہے کہ لوگوں سے ان کے اموال کا بکثرت سوال نہ کیا جائے یعنی بھیک مانگنا اور دوسرا یہ ہے کہ ایسے بے فائدہ اور عبث سوالات نہ کیے جائیں جن کا ہدایت کے ساتھ تعلق نہیں۔
حدیث نمبر: 1090
1090 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدٍ الْأُرُزِّيُّ، نا عُبَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، جَارُ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، نا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَمَنْعًا وَهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عمار بن یاسر اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے تمہارے لیے کثرت سوال، مال ضائع کرنا، خود نہ دینا اور دوسروں سے لینا، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا اور ماں کی نافرمانی کرنا ناپسند کیا ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے تم پر ماوں کی نافرمانی، بچیوں کو زندہ دفن کرنا، خود نہ دینا اور دوسروں سے لینا حرام کیا ہے اور قیل و قال، کثرت سوال اور مال ضائع کرنا تمہارے لیے ناپسند کیا ہے۔ “ [بخاري: 2408]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے تم پر ماوں کی نافرمانی، بچیوں کو زندہ دفن کرنا، خود نہ دینا اور دوسروں سے لینا حرام کیا ہے اور قیل و قال، کثرت سوال اور مال ضائع کرنا تمہارے لیے ناپسند کیا ہے۔ “ [بخاري: 2408]