کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: بے شک اللہ شہوتوں کے آتے وقت پرکھنے والی نظر کو پسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 1080
1080 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ التُّسْتَرِيُّ، أبنا أَبُو طَاهِرٍ، عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْفَضْلِ الْأَرْبَقِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا أَبُو يَعْقُوبَ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبِي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ حَوْشَبٍ، وَمَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَرَفِ عِمَامَتِي فَقَالَ: «يَا عِمْرَانُ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْإِنْفَاقَ وَيُبْغِضُ الْإِقْتَارَ، فَأَنْفِقْ وَأَطْعِمْ، وَلَا تَصِرُّ صَرًّا فَيَعْسُرُ عَلَيْكَ الطَّلَبُ، وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْبَصَرَ النَّافِذَ عِنْدَ مَجِيءِ الشَّهَوَاتِ وَالْعَقْلَ الْكَامِلَ عِنْدَ نُزُولِ الشُّبُهَاتِ، وَيُحِبُّ السَّمَاحَةَ وَلَوْ عَلَى تَمَرَاتٍ، وَيُحِبُّ الشَّجَاعَةَ وَلَوْ عَلَى قَتْلِ حَيَّةٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے عمامے کا کونا پکڑ کر فرمایا: ”اے عمران! بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ خرچ کرنے کو پسند کرتا ہے اور روک رکھنے کو پسند نہیں کرتا، لہٰذا تو خرچ کر اور کھلا اور تھیلی کا منہ باندھ کر نہ رکھ ورنہ طلب تجھ پر مشکل ہو جائے گی اور جان لے کہ بے شک اللہ شہوتوں کے آتے وقت پرکھنے والی نظر کو اور شبہات اترتے وقت عقل کامل کو پسند کرتا ہے اور وہ سخاوت بھی پسند کرتا ہے خواہ چند کھجوروں پر ہو اور بہادری کو بھی پسند کرتا ہے خواہ کسی سانپ کو مارنے پر ہو۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1080
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الزهد الكبير : 954 ، حلية الاولياء : 117/5 ، تاريخ دمشق : 52/138»
عمر بن حفص عبدی اور بلال بن علاء کا والد ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 1081
1081 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، نا ابْنُ بُنْدَارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، نا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، نا حَوْشَبٌ، وَمَطَرٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: أَرْخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَرَفِ عِمَامَتِي مِنْ وَرَائِي ثُمَّ قَالَ: «يَا عِمْرَانُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْإِنْفَاقَ وَيُبْغِضُ الْإِقْتَارَ، فَكُلْ وَأَطْعِمْ، وَلَا تَصِرُّ صَرًّا فَيَعْسُرَ عَلَيْكَ الطَّلَبُ، وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْبَصَرَ النَّافِذَ عِنْدَ مَجِيءِ الشَّهَوَاتِ، يَعْنِي وَالْعَقْلَ الْكَامِلَ عِنْدَ نُزُولِ الشَّهَوَاتِ، وَيُحِبُّ السَّمَاحَةَ وَلَوْ عَلَى تَمَرَاتٍ وَيُحِبُّ الشَّجَاعَةَ وَلَوْ عَلَى قَتْلِ حَيَّةٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے عمامے کا کونا پکڑا پھر فرمایا: ”اے عمران! بے شک اللہ خرچ کرنے کو پسند کرتا ہے اور روک رکھنے کو پسند نہیں کرتا لہٰذا (خود بھی) کھا اور (دوسروں کو بھی) کھلا اور تھیلی کا منہ باندھ کر نہ رکھ ورنہ طلب تجھ پر مشکل ہو جائے گی اور جان لے کہ بے شک اللہ شہوتوں کے آتے وقت پرکھنے والی نظر کو اور شبہات اترتے وقت عقل کامل کو پسند کرتا ہے اور وہ سخاوت بھی پسند کرتا ہے خواہ چند کھجوروں پر ہو اور وہ بہادری بھی پسند کرتا ہے خواہ کسی سانپ کو مارنے پر ہو۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1081
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الزهد الكبير : 954 ، حلية الاولياء : 117/5 ، تاريخ دمشق : 52/138»
عمر بن حفص عبدی اور بلال بن علاء کا والد ضعیف ہیں ۔