حدیث نمبر: 1071
1071 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ الْكُوفِيُّ الْعَبْسِيُّ، قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا رَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ يَبْكِي عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ: أَبْكَانِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَخْفِيَاءَ الْأَتْقِيَاءَ، الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا، وَإِذَا حَضَرُوا لَمْ يُعْرَفُوا، وَلَمْ يُدْعَوْا، قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى، يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (ایک دن) مسجد نبوی کی طرف نکلے تو دیکھا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس رو رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: معاذ! کیوں رو رہے ہو؟ وہ کہنے لگے: مجھے وہ بات رلا رہی ہے جو میں نے اس قبر والے سے سنی تھی، میں نے ان کو یہ فرماتے سنا تھا: ”بے شک اللہ نیک، گمنام، متقی لوگوں کو پسند کرتا ہے جو (محفل سے) جب غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جائے اور جب موجود ہوں تو انہیں پہچانا نہ جائے اور نہ بلایا جائے (حالانکہ) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، وہ ہر غبار آلود تاریک فتنہ سے (محفوظ) نکلتے ہیں۔“