حدیث نمبر: 1047
1047 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْكِنْدِيُّ، نا يَعْقُوبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْمُقْرِئُ، نا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الشِّعْرِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا يَنْضَحُونَهُمْ بِالنَّبْلِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
عبد الرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا عرض کیا ا: کہ اللہ کے رسول ! صلی اللہ کہ سہ کہ شعر کے بارے کہ کہ سہ کہا : آپ کیا خیال رکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ کہ سہا سکتے ہیں کہ : ”بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان رہتی ہے، گویا وہ (ہجو کے ذریعہ سے) انھیں نیزوں سے مارتا ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اسلام کی سربلندی کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا نام جہاد ہے، جہاد کے ان گنت فضائل اور فوائد ہیں اور اس کی اقسام بھی کئی ہیں۔ مذکورہ حدیث میں جہاد کی دو قسموں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے: ① جہاد بالسیف: یعنی تلوار وغیرہ کے ذریعے کفار سے جہاد کرنا جسے قتال بھی کہا جاتا ہے۔
② جہاد باللسان: یعنی زبان کے ذریعے جہاد کرنا، اس میں تقریر، تدریس، مناظرات اور دعوت و تبلیغ وغیرہ سب شامل ہیں، کفار کی ہجو کرنا بھی جہاد ہے۔ ایک مسلمان کو موقع ومحل کی مناسبت سے حسب استطاعت ہر طرح کے جہاد میں حصہ لینا چاہیے۔
اسلام کی سربلندی کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا نام جہاد ہے، جہاد کے ان گنت فضائل اور فوائد ہیں اور اس کی اقسام بھی کئی ہیں۔ مذکورہ حدیث میں جہاد کی دو قسموں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے: ① جہاد بالسیف: یعنی تلوار وغیرہ کے ذریعے کفار سے جہاد کرنا جسے قتال بھی کہا جاتا ہے۔
② جہاد باللسان: یعنی زبان کے ذریعے جہاد کرنا، اس میں تقریر، تدریس، مناظرات اور دعوت و تبلیغ وغیرہ سب شامل ہیں، کفار کی ہجو کرنا بھی جہاد ہے۔ ایک مسلمان کو موقع ومحل کی مناسبت سے حسب استطاعت ہر طرح کے جہاد میں حصہ لینا چاہیے۔