کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: بے شک ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور بے شک اللہ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں
حدیث نمبر: 1029
1029 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، أبنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور بے شک اللہ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔“
حدیث نمبر: 1030
1030 - وأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، أنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا أَبُو زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَفِيهِ «أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا اور انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی جس میں یہ بھی تھا: ”سنو! ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے۔ سنو! اللہ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں ایک خوبصورت مثال کے ذریعے اللہ تعالیٰ ٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے جس طرح ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، ایک مخصوص زمین ہوتی ہے جس میں کسی کو داخل ہونے یا جانور چرانے کی اجازت نہیں ہوتی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی بھی ایک مخصوص چراگاہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں جن کے قریب جانے کی کسی کو اجازت نہیں۔ جس طرح بادشاہ کی مخصوص چراگاہ میں جانے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی جو جاتا ہے وہ سزا پاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کا جو ارتکاب کرے گا وہ سزا کا مستحق ہوگا۔
ان احادیث میں ایک خوبصورت مثال کے ذریعے اللہ تعالیٰ ٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے جس طرح ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، ایک مخصوص زمین ہوتی ہے جس میں کسی کو داخل ہونے یا جانور چرانے کی اجازت نہیں ہوتی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی بھی ایک مخصوص چراگاہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں جن کے قریب جانے کی کسی کو اجازت نہیں۔ جس طرح بادشاہ کی مخصوص چراگاہ میں جانے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی جو جاتا ہے وہ سزا پاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کا جو ارتکاب کرے گا وہ سزا کا مستحق ہوگا۔