کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: بے شک کثیر علم کے ساتھ قلیل عمل بھی بہت ہے اور جہالت کے ساتھ کثیر عمل بھی کم ہے
حدیث نمبر: 1015
1015 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، صَالِحُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رِشْدِينَ إِجَازَةً، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو مَهْدِيٍّ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: «الْعِلْمُ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْأَلُكَ عَنِ الْعَمَلِ فَتُخْبِرُنِي بِالْعِلْمِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قَلِيلَ الْعَمَلِ مَعَ الْعِلْمِ كَثِيرٌ، وَكَثِيرُ الْعَمَلِ مَعَ الْجَهْلِ قَلِيلٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ سے عمل کے متعلق دریافت کر رہا ہوں جبکہ آپ مجھے علم کے متعلق بتا رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک کثیر علم کے ساتھ قلیل عمل بھی بہت ہے اور جہالت کے ساتھ کثیر عمل بھی کم ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1015
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث إسناده ضعيف جدا ، ابومہدی متروک ہے ، اس میں ایک اور بھی علت ہے ۔
حدیث نمبر: 1016
1016 - أنا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْعَسْقَلَانِيُّ إِجَازَةً، حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَبُو قِرْصَافَةَ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا بَقِيَّةُ، نا حُدَيْرٌ، مَوْلَى السِّمْطِ بْنِ ثَابِتٍ، نا أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبَرَنِي بِأَفْضَلِ الْعَمَلِ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالْعِلْمِ» فَقَالَ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ أَفْضَلِ الْعَمَلِ، فَقَالَ لَهُ: «عَلَيْكَ بِالْعِلْمِ، فَإِنَّ قَلِيلَ الْعَمَلِ مَعَ الْعِلْمِ كَثِيرٌ، وَإِنَّ كَثِيرَ الْعَمَلِ مَعَ الْجَهْلِ قَلِيلٌ» وَأَخْبَرَنِي بِهِ أَبُو الْحَسَنِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابوزاہریہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے افضل عمل بتا دیجیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”علم کو لازم پکڑو۔“ اس پر وہ کہنے لگا: میں نے تو آپ سے افضل عمل دریافت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”علم کو لازم پکڑو کیونکہ کثیر علم کے ساتھ قلیل عمل بھی بہت ہے اور جہالت کے ساتھ کثیر عمل بھی کم ہے۔“ یہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1016
درجۂ حدیث محدثین: مرسل ضعیف
تخریج حدیث مرسل ضعیف ، اسے ابوز اہر یہ تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور حدیر مولی السمط مجہول ہے ۔