کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: بے شک افضل چیز جو انسان کھاتا ہے وہی ہے جو اس کی اپنی کمائی میں سے ہو
حدیث نمبر: 1012
1012 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ الْقَاسِمِ بْنِ سَلَّامٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَفْضَلَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک افضل چیز جو انسان کھاتا ہے وہی ہے جو اس کی اپنی کمائی میں سے ہو اور اس کی اولاد بھی اس کی اپنی کمائی ہی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1012
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4259، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2307، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3528، 3529، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1358، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2579، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2137، 2290، و النسائي : 4454 ، والحميدي فى «مسنده» برقم: 248، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24666»
حدیث نمبر: 1013
1013 - وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، نا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی علی بن عبد العزیز سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث مبارک سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ① انسان کا بہترین کھانا وہی ہے جو وہ اپنی حلال کمائی میں سے کھاتا ہے، محنت سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہے بشرطیکہ اس میں شرعی احکام کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔
② انسان کی اولا د بھی اس کی اپنی کمائی ہے کیونکہ اولاد کو اس نے بڑی محنت و مشقت سے پال پوس کر جوان کیا، لہٰذا اولاد کی کمائی میں سے ان کی اجازت کے بغیر بھی والدین کو تصرف کا حق حاصل ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1013
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4259، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2307، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3528، 3529، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1358، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2579، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2137، 2290، و النسائي : 4454 ، والحميدي فى «مسنده» برقم: 248، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24666»