کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: بے شک اشارے کنائے سے بات کرنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے
حدیث نمبر: 1011
1011 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أُنَيْسٌ أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ فِي الْمَعَارِيضِ لَمَنْدُوحَةً عَنِ الْكَذِبِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اشارے کنائے سے بات کرنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
جناب مطرف کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ سے بصرہ تک سفر کیا بہت ہی کم منزلیں ایسی ہوں گی جہاں ہم اترے ہوں اور انہوں نے شعر نہ سنائے ہوں اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اشارے کنائے سے بات کرنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے۔ (الادب المفرد: 857، وسندہ صحیح)
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي : 20843 ، الكامل لابن عدي :»
داود بن زبرقان متروک اس میں اور بھی علتیں ہیں ۔