حدیث نمبر: 999
999 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أبنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ إِعْطَاءَ هَذَا الْمَالِ فِتْنَةٌ، وَإِمْسَاكَهُ فِتْنَةٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
مطرف سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے انہیں بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اس مال کا ملنا آزمائش ہے اور اسے روکے رکھنا بھی آزمائش ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
معلوم ہوا کہ مال و دولت ہر لحاظ سے انسان کے لیے آزمائش ہے، اس کا ملنا بھی آزمائش اور نہ ملنا بھی آزمائش کہ دولت کے نشے میں انسان اپنے خالق و مالک کی نافرمانی کا مرتکب ہو جاتا ہے تو غربت بھی انسان کو اللہ تعالیٰ ٰ کا ناشکرا اور نافرمان بنا دیتی ہے اس لیے اس مال کو انسان کے لیے فتنہ اور آزمائش قرار دیا گیا ہے۔
معلوم ہوا کہ مال و دولت ہر لحاظ سے انسان کے لیے آزمائش ہے، اس کا ملنا بھی آزمائش اور نہ ملنا بھی آزمائش کہ دولت کے نشے میں انسان اپنے خالق و مالک کی نافرمانی کا مرتکب ہو جاتا ہے تو غربت بھی انسان کو اللہ تعالیٰ ٰ کا ناشکرا اور نافرمان بنا دیتی ہے اس لیے اس مال کو انسان کے لیے فتنہ اور آزمائش قرار دیا گیا ہے۔