کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: بے شک جنت کے رہنے والوں میں عورتیں بہت کم ہیں
حدیث نمبر: 991
991 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْبَغْدَادِيُّ الْكَاتِبُ، ثنا الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَقَلَّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جنت کے رہنے والوں میں عورتیں بہت کم ہیں۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ شروع شروع میں جنت میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد بہت کم ہوگی اس کی وجہ بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ لعن طعن بہت کرتی ہیں اور خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ [بخاري: 304]
ہاں گناہوں کی سزا بھگت کر جنت میں آئیں گی تو ان کی تعداد مردوں سے بھی بڑھ جائے گی جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ایک جنتی کے لیے دو بیویاں ہوں گی۔ [مسلم: 2834]
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مذکورہ حدیث میں دو بیویوں سے مراد بنات آدم سے ہیں جبکہ حوریں ان کے علاوہ ہوں گی جتنی اللہ چاہے گا۔ [البدايه والنهايه: 476/17]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 991
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2738،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7457، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8878، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9222، وأحمد فى «مسنده» برقم: 20151، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 871، والطبراني فى«الكبير» برقم: 239، 262»