حدیث نمبر: 961
961 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ، هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ بُنْدَارٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي عَرُوبَةَ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَوْدُودٍ قُلْتُ لَهُ: حَدَّثَكُمْ مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا، وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا، وَإِنَّ مِنْ طَلَبِ الْعِلْمِ جَهْلًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا علی علیہ السلام کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں، بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں، بعض قول بوجھ ہوتے ہیں اور بعض علم جہالت ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 962
962 - أنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا ابْنُ جَامِعٍ السُّكَّرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، نا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں اور بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 963
963 - وأنا الْقَاضِي أَبُو مَطَرٍ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أنا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَرُوفٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ، نا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ، فَخَطَبَا، فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، أَوْ» إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرق کی طرف سے دو آدمی آئے انہوں نے خطبہ دیا لوگوں کو ان کا بیان بڑا پسند آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔“ یا ”بے شک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 964
964 - وأنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، نا يَعْقُوبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، نا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ، نا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 965
965 - أنا أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعْدُونٍ الْمَوْصِلِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، نا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 966
966 - نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الصُّوفِيُّ الْوَاعِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولِ بْنِ حَسَّانَ الْأَنْبَارِيُّ، أَخْبَرَنِي جَدِّي، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، نا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، يَرْفَعُهُ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشَّعْرِ حِكَمًا، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں اور بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔“
وضاحت:
تشریح: -
”بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔ “ اس فرمان سے بیان (خطبہ و تقریر) کی تعریف و مذمت دونوں ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض بیان جادو کی سی تاثیر رکھتے ہیں لوگ ان سے بہت متاثر ہوتے ہیں اگر یہ بیان لوگوں کے عقائد اور اعمال کی اصلاح کا ذریعہ ہوں تو یہ محمود و مستحسن ہیں اور اگر ان سے بگاڑ آئے تو پھر نا جائز اور قابل مذمت ہیں۔
”بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں۔ “ یعنی سارے شعر برے نہیں ہوتے بعض اشعار میں حق بات اور حکمت کا بیان ہوتا ہے ان سے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ بہر حال شعر بھی ایک کلام ہے، اچھا شعر اچھا ہے اور برا شعر برا ہے۔
”بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔ “ اس فرمان سے بیان (خطبہ و تقریر) کی تعریف و مذمت دونوں ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض بیان جادو کی سی تاثیر رکھتے ہیں لوگ ان سے بہت متاثر ہوتے ہیں اگر یہ بیان لوگوں کے عقائد اور اعمال کی اصلاح کا ذریعہ ہوں تو یہ محمود و مستحسن ہیں اور اگر ان سے بگاڑ آئے تو پھر نا جائز اور قابل مذمت ہیں۔
”بعض شعر پر حکمت ہوتے ہیں۔ “ یعنی سارے شعر برے نہیں ہوتے بعض اشعار میں حق بات اور حکمت کا بیان ہوتا ہے ان سے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ بہر حال شعر بھی ایک کلام ہے، اچھا شعر اچھا ہے اور برا شعر برا ہے۔