کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے
حدیث نمبر: 959
959 - أَخْبَرَنَا خَلَفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُقْرِئُ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الْوَرْدِ، أبنا أَبُو يَزِيدَ، يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أبنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّهُ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
بدگمانی سے مراد بغیر دلیل اور بغیر تحقیق کے کسی کے متعلق کوئی رائے یا خیال دل میں بٹھا لینا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگمانی کو سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا ہے۔ اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے لہٰذا بدگمانی سے بچنا چاہیے۔ ہمیں جھوٹ سے بچنے اور سچائی کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے سچائی کا نتیجہ جنت اور جھوٹ کا نتیجہ جہنم ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 959
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6066 ، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2563 ، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1988 ، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4917 ، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1117 ، ومالك فى «الموطأ» رواية ابن القاسم، 291 ، والطبراني فى «الصغير» برقم: 240، 466، 628، 1013»