کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: ہر شخص کو بس اس حال میں موت آئے کہ وہ اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو
حدیث نمبر: 938
938 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، بِمَكَّةَ، أبنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ: «أَلَا لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے سنا: ”خبردار! ہر شخص کو بس اس حال میں موت آئے کہ وہ اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ انسان کو ہر وقت اچھے عمل ہی کرنے چاہئیں کیونکہ موت کا کوئی پتا نہیں کس وقت آجائے جب کہ موت کے وقت انسان کو اللہ کے ساتھ عفو و رحمت کی امید رکھنی چاہیے جو ایمان و عمل صالح کے بغیر ممکن نہیں گویا حدیث کا وہی مطلب ہے جو قرآن کریم کی آیت: ﴿وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾ (آل عمران: 102) ”تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“ کا ہے۔ (ریاض الصالحین: 1/405)
اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ انسان کو ہر وقت اچھے عمل ہی کرنے چاہئیں کیونکہ موت کا کوئی پتا نہیں کس وقت آجائے جب کہ موت کے وقت انسان کو اللہ کے ساتھ عفو و رحمت کی امید رکھنی چاہیے جو ایمان و عمل صالح کے بغیر ممکن نہیں گویا حدیث کا وہی مطلب ہے جو قرآن کریم کی آیت: ﴿وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾ (آل عمران: 102) ”تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“ کا ہے۔ (ریاض الصالحین: 1/405)