حدیث نمبر: 933
933 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور نہ ان کے عیب ڈھونڈو۔“
وضاحت:
فائدہ: -
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تو بہ قبول کرنے والا بے حد مہربان ہے۔“ (الحجرات: 12)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور بآواز بلند فرمایا: ”لوگو! جو اپنی زبان سے اسلام لائے ہو جبکہ ایمان ان کے دلوں تک نہیں پہنچا، مسلمانوں کو تکلیف مت پہنچاؤ اور نہ انہیں عار دلاؤ اور نہ ان کے عیب ڈھونڈو کیونکہ جوشخص اپنے بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے تو اللہ اس کے عیبوں کا پیچھا کرتا ہے اور جس کے عیبوں کا اللہ پیچھا کرتا ہے تو اسے وہ رسوا کر دیتا ہے خواہ وہ اپنے گھر کے وسط میں ہو۔“ [ترمذي: 2032، وسنده حسن]
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تو بہ قبول کرنے والا بے حد مہربان ہے۔“ (الحجرات: 12)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور بآواز بلند فرمایا: ”لوگو! جو اپنی زبان سے اسلام لائے ہو جبکہ ایمان ان کے دلوں تک نہیں پہنچا، مسلمانوں کو تکلیف مت پہنچاؤ اور نہ انہیں عار دلاؤ اور نہ ان کے عیب ڈھونڈو کیونکہ جوشخص اپنے بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے تو اللہ اس کے عیبوں کا پیچھا کرتا ہے اور جس کے عیبوں کا اللہ پیچھا کرتا ہے تو اسے وہ رسوا کر دیتا ہے خواہ وہ اپنے گھر کے وسط میں ہو۔“ [ترمذي: 2032، وسنده حسن]