کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: مُردوں کو گالی نہ دو کیونکہ انہوں نے جو آگے بھیجا ہے اسے وہ حاصل کر چکے ہیں
حدیث نمبر: 923
923 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاتِبُ الْبَغْدَادِيُّ، أبنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کو گالی نہ دو کیونکہ انہوں نے جو آگے بھیجا ہے اسے وہ حاصل کر چکے ہیں۔“
حدیث نمبر: 924
924 - أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، تَمْتَامٌ، نا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَعَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، فَقَالَا: نا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا . . . . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث سے پتا چلا کہ مُردوں کو سب و شتم کرنا جائز نہیں کیونکہ دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کے مطابق وہ جزا و سزا کے مستحق ہو چکے ہیں اور اسے پا رہے ہیں لہٰذا ہمیں اب ان کو برا بھلا کہنے کی ضرورت نہیں البتہ کسی مصلحت شرعی کے تحت کفار و فساق اور بدعتی لوگوں کے کردار سے عوام کو آگاہ کرنا جائز ہے تاکہ لوگ ان کے کفر و فسق اور ان کی بدعت سے بچ سکیں، یہ ان کی بدگوئی نہیں بلکہ ان کی حقیقت واضح کر کے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ خود کو بچا سکیں۔ شریعت مطہرہ میں اس کی اجازت ہے۔
اس حدیث سے پتا چلا کہ مُردوں کو سب و شتم کرنا جائز نہیں کیونکہ دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کے مطابق وہ جزا و سزا کے مستحق ہو چکے ہیں اور اسے پا رہے ہیں لہٰذا ہمیں اب ان کو برا بھلا کہنے کی ضرورت نہیں البتہ کسی مصلحت شرعی کے تحت کفار و فساق اور بدعتی لوگوں کے کردار سے عوام کو آگاہ کرنا جائز ہے تاکہ لوگ ان کے کفر و فسق اور ان کی بدعت سے بچ سکیں، یہ ان کی بدگوئی نہیں بلکہ ان کی حقیقت واضح کر کے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ خود کو بچا سکیں۔ شریعت مطہرہ میں اس کی اجازت ہے۔