کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ ہی زمانہ (یعنی زمانے کا خالق ) ہے
حدیث نمبر: 920
920 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُعَدِّلُ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ ہی زمانہ (یعنی زمانے کا خالق) ہے۔“
حدیث نمبر: 921
921 - أنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْفَرْضِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا بِشْرٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عز و جل فرماتا ہے: ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ (یعنی زمانے کا خالق) ہوں سب اختیار میرے ہی ہاتھ میں ہے، رات اور دن کو میں ہی بدلتا ہوں۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث سے پتا چلا کہ دہر (زمانہ) کو برا کہنا جائز نہیں کیونکہ زمانہ تو ہمیشہ سے ایک ہی ہے، وہی ماہ و سال اور لیل و نہار ہیں جو پہلے تھے، ہاں لوگ اور ان کے اعمال بدلتے رہتے ہیں۔ انسان اپنی بداعمالیوں کو زمانے کی طرف منسوب کرنے لگ جاتا ہے اور زمانے کو کوسنا شروع کر دیتا ہے جو کہ کبیرہ گناہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ٰ نے زمانے کی نسبت اپنی طرف کی ہے کیونکہ زمانے پر اختیار، اس کا خالق اور اسے چلانے والا وہی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ ”میں ہی زمانہ ہوں“ گویا زمانہ کو برا کہنے والا اصل میں اللہ تعالیٰ ٰ کو برا کہتا ہے جس طرح کہ کسی عمارت اور بلڈنگ میں عیب نکالنا اصل میں اس کے بنانے والے کی کمزوری بیان کرنا ہے، کسی کتاب میں اغلاط نکالنا صاحب کتاب کی کمزوری بیان کرنا ہے، اسی طرح زمانے کو برا کہنا اللہ تعالیٰ ٰ کو برا کہنا ہے اور اللہ تعالیٰ ٰ کو برا کہنا اللہ تعالیٰ کو دکھ دینا ہے جو کہ کبیرہ گناہ ہے۔
ان احادیث سے پتا چلا کہ دہر (زمانہ) کو برا کہنا جائز نہیں کیونکہ زمانہ تو ہمیشہ سے ایک ہی ہے، وہی ماہ و سال اور لیل و نہار ہیں جو پہلے تھے، ہاں لوگ اور ان کے اعمال بدلتے رہتے ہیں۔ انسان اپنی بداعمالیوں کو زمانے کی طرف منسوب کرنے لگ جاتا ہے اور زمانے کو کوسنا شروع کر دیتا ہے جو کہ کبیرہ گناہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ٰ نے زمانے کی نسبت اپنی طرف کی ہے کیونکہ زمانے پر اختیار، اس کا خالق اور اسے چلانے والا وہی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ ”میں ہی زمانہ ہوں“ گویا زمانہ کو برا کہنے والا اصل میں اللہ تعالیٰ ٰ کو برا کہتا ہے جس طرح کہ کسی عمارت اور بلڈنگ میں عیب نکالنا اصل میں اس کے بنانے والے کی کمزوری بیان کرنا ہے، کسی کتاب میں اغلاط نکالنا صاحب کتاب کی کمزوری بیان کرنا ہے، اسی طرح زمانے کو برا کہنا اللہ تعالیٰ ٰ کو برا کہنا ہے اور اللہ تعالیٰ ٰ کو برا کہنا اللہ تعالیٰ کو دکھ دینا ہے جو کہ کبیرہ گناہ ہے۔