کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: اپنے بھائی کی تکلیف پر خوشی کا اظہار مت کر ( کہیں ایسا نہ ہو ) کہ اسے اللہ تعالیٰ ٰ عافیت دے دے اور تجھے آزمائش میں ڈال دے
حدیث نمبر: 917
917 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ أُمَيَّةَ الْحَذَّاءُ، ثنا حَفْصٌ، يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، ثنا بُرْدٌ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُظْهِرِ الشَّمَاتَةَ لِأَخِيكَ فَيُعَافِيَهُ اللَّهُ وَيَبْتَلِيَكَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی تکلیف پر خوشی کا اظہار مت کر (کہیں ایسا نہ ہو) کہ اسے اللہ تعالیٰ عافیت دے دے اور تجھے آزمائش میں ڈال دے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 917
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2505، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7244، و شعب الايمان : 6355»
راوی قاسم بن امیہ نے حفص بن غیاث سے منکر روایتیں بیان کی ہیں ۔ جیسا کہ المجر وحین : 2/16 اور سوالات البرذعی : ص192 تا 195 میں ہے ۔ اس میں ایک اور بھی علت ہے ۔
حدیث نمبر: 918
918 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ النَّحَّاسِ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو يَعْلَى هُوَ السَّاجِيُّ قَالَ: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ أُمَيَّةَ الْحَذَّاءُ، قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ غِيَاثِ بْنِ طَلْقٍ النَّخَعِيَّ، قَاضِيَ الْكُوفَةِ يَقُولُ: سَمِعْتُ بُرْدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا . . . . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 918
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2505، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7244، و شعب الايمان : 6355»
راوی قاسم بن امیہ نے حفص بن غیاث سے منکر روایتیں بیان کی ہیں ۔ جیسا کہ المجر وحین : 2/16 اور سوالات البرذعی : ص192 تا 195 میں ہے ۔ اس میں ایک اور بھی علت ہے ۔
حدیث نمبر: 919
919 - أنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَفْصٍ الْبَصْرِيُّ، نا عَمِّي، مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ: حَدَّثَنِي قَاسِمُ بْنُ أُمَيَّةَ الْحَذَّاءُ، نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُظْهِرِ الشَّمَاتَةَ لِأَخِيكَ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ وَيَبْتَلِيَكَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی تکلیف پر خوشی کا اظہار مت کر (کہیں ایسا نہ ہو) کہ اس پر تو اللہ رحم فرما دے اور تجھے کسی آزمائش میں ڈال دے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 919
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2505، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7244، و شعب الايمان : 6355»
راوی قاسم بن امیہ نے حفص بن غیاث سے منکر روایتیں بیان کی ہیں ۔ جیسا کہ المجر وحین : 2/16 اور سوالات البرذعی : ص192 تا 195 میں ہے ۔ اس میں ایک اور بھی علت ہے ۔