کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: بندہ جب تک نماز کا انتظار کرتا ہے وہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے
حدیث نمبر: 916
916 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ صَخْرٍ الْأَزْدِيُّ بِمَكَّةَ، أبنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّعْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أبنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب تک نماز کا انتظار کرتا ہے وہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز گھر یا بازار میں پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے، وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص وضو کرتا ہے اور اس کے تمام آداب کو ملحوظ رکھ کر اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد کی طرف نکلتا ہے اور اس کا نماز کے سوا کوئی ارادہ نہیں ہوتا تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو فرشتے اس وقت تک اس کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے فرشتے کہتے ہیں، اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اللہ! اس پر رحم فرما اور جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہو تو گویا تم نماز ہی میں ہو۔ [بخاري: 647]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 916
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث إسناده ضعیف، محمد بن کثیر ضعیف ہے ۔