کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آجائے
حدیث نمبر: 913
913 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ، جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أبنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ جائے۔“
حدیث نمبر: 914
914 - وأنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْكِرَامٍ، نَا الشَّرِيفُ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ طَاهِرٍ الْحُسَيْنِيُّ الْمَعْرُوفُ بِمُسْلِمٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ صُبَيْحٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا ان کی مخالفت کرنے والا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ جائے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث مبارک سے پتا چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود سے لے کر قیامت آنے تک ایک گروہ حق پر رہے گا۔ جس طرح دیگر امتیں گمراہی پر چلی گئیں اور ان میں کوئی بھی سیدھے راستے اور حق پر نہ رہا امت محمدیہ کا معاملہ ایسا نہیں۔ اگر چہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس امت کے لوگ بھی سیدھے راستے اور حق سے ہٹتے جائیں گے لیکن ایک گروہ بہر حال حق پر ڈٹا رہے گا، انہیں ستانے والے انہیں حق سے ہٹا نہیں سکیں گے۔
حق سے مراد کتاب وسنت ہے، جبکہ گروہ سے مراد اہل حدیث ہیں جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے استاد ذی وقار امام علی بن مدینی اور دیگر کبار محدثین نے فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے ہمارے شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ”اہل حدیث ایک صفاتی نام“ ملاحظہ کیجیے۔
اس حدیث مبارک سے پتا چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود سے لے کر قیامت آنے تک ایک گروہ حق پر رہے گا۔ جس طرح دیگر امتیں گمراہی پر چلی گئیں اور ان میں کوئی بھی سیدھے راستے اور حق پر نہ رہا امت محمدیہ کا معاملہ ایسا نہیں۔ اگر چہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس امت کے لوگ بھی سیدھے راستے اور حق سے ہٹتے جائیں گے لیکن ایک گروہ بہر حال حق پر ڈٹا رہے گا، انہیں ستانے والے انہیں حق سے ہٹا نہیں سکیں گے۔
حق سے مراد کتاب وسنت ہے، جبکہ گروہ سے مراد اہل حدیث ہیں جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے استاد ذی وقار امام علی بن مدینی اور دیگر کبار محدثین نے فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے ہمارے شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ”اہل حدیث ایک صفاتی نام“ ملاحظہ کیجیے۔