کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: ( دنیا کا) معاملہ مزید سنگین ہی ہوتا جائے گا
حدیث نمبر: 898
898 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مَلِيحٍ الطَّرَائِفِيُّ، وَأَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْمَدِينِيُّ قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا إِدْبَارًا، وَلَا النَّاسُ إِلَّا شُحًّا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، وَلَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دنیا کا) معاملہ مزید سنگین ہی ہوتا جائے گا، دنیا کو زوال ہی آتا جائے گا، لوگوں میں بخل ہی بڑھے گا، قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہوگی اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہی مہدی ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 898
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 8457، ، 8458، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4039، والبزار فى «مسنده» برقم: 6395، والطبراني فى «الصغير» برقم: 485، معجم الشيوخ لابن عساكر : 524»
حسن بصری مدلس کا عنعنہ اور محمد بن خالد جندی مجہول ہے ، اس میں ایک اور علت بھی ہے
حدیث نمبر: 899
899 - وَأَنَاهُ قَاضِي الْقُضَاةِ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، إِمَامُ مَسْجِدِ الْجَامِعِ، نا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی محمد بن خالد جندی سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 899
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 8457، ، 8458، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4039، والبزار فى «مسنده» برقم: 6395، والطبراني فى «الصغير» برقم: 485، معجم الشيوخ لابن عساكر : 524»
حسن بصری مدلس کا عنعنہ اور محمد بن خالد جندی مجہول ہے ، اس میں ایک اور علت بھی ہے
حدیث نمبر: 900
900 - أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْخَضِرِ الْخَوْلَانِيُّ، نا أَبُو الْفَرَجِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدَانَ، نا أَبُو سَعِيدٍ الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، بِمَكَّةَ، نا صَامِتُ بْنُ مُعَاذٍ، نا زَيْدُ بْنُ السَّكَنِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا . . . . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 900
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 8457، ، 8458، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4039، والبزار فى «مسنده» برقم: 6395، والطبراني فى «الصغير» برقم: 485، معجم الشيوخ لابن عساكر : 524»
حسن بصری مدلس کا عنعنہ اور محمد بن خالد جندی مجہول ہے ، اس میں ایک اور علت بھی ہے
حدیث نمبر: 901
901 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا أَبُو أَحْمَدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، نا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا الْمَالُ إِلَّا إِفَاضَةً، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ خَلْقِهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”(دنیا کا) معاملہ مزید سنگین ہی ہوتا جائے گا، مال میں فراوانی ہی آتی جائے گی اور قیامت اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگوں پر ہی قائم ہوگی۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 901
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 8453، والطبراني فى«الكبير» برقم: 7757، 7894»
حدیث نمبر: 902
902 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہوگی۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں قرب قیامت کی سختیوں کا بیان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حالات بھی بگڑتے چلے جائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ: دنیا میں صرف آزمائش اور فتنے باقی رہ جائیں گے۔ [ابن ماجه: 4035، وسند و صحيح]
ایک دوسری حدیث ہے، فرمایا: قیامت سے پہلے لوگوں پر ایسے سال آئیں گے جو دھو کے کے سال ہوں گے، ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا اور ان میں رو بیضہ کلام کرے گا، (یعنی نا اہل شخص لوگوں کے معاملات میں رائے دے گا)۔ [أحمد: 2 338، وسند ه حسن]
حالات اس قدر بگڑ جائیں گے کہ آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے گا تو وہ اس پر لیٹ جائے گا اور کہے گا: کاش! اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا۔ وہ نیکی اور دین داری کی وجہ سے یہ بات نہیں کہے گا بلکہ مشکلات و آزمائش کی وجہ سے (ایسی تمنا) کرے گا۔ ([مسلم: 157]
مال و دولت کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ دولت مند سوچے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے؟ وہ کسی آدمی کو صدقہ لینے کے لیے بلائے گا لیکن آگے سے وہ کہے گا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ [مسلم: 157]
قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔ وہ لوگ کیسے ہوں گے؟ فرمایا: نیک لوگ ایک ایک کر کے اٹھ جائیں گے اور جو یا کھجور کے کچرے کی مانند (حقیر) لوگ باقی رہ جائیں گے، اللہ کو ان کی کچھ پروا نہ ہوگی۔ [بخاري: 6434]
بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں کی طرح سبک اور تیز جبکہ درندوں کی طرح سخت (وحشی) ہوں گے وہ کسی نیکی کو نیکی سمجھیں گے نہ برائی کو برائی۔ [مسلم: 2940]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 902
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2949، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6850، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8685، 8763، وأحمد فى «مسنده» برقم: 3812، 4227، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 309»