کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے اسی طرح خیر و بھلائی پسند نہ کرے جس طرح اپنے لیے کرتا ہے
حدیث نمبر: 888
888 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے اسی طرح خیر و بھلائی پسند نہ کرے جس طرح اپنے لیے کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 889
889 - وأنا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، أنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَرَوِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی اسی چیز کو پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں مسلمانوں کی باہمی خیر خواہی کی فضیلت اور اس کی ترغیب ہے، جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے وہی کچھ پسند کرے گا جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے تو وہ ہر معاملے میں دوسرے مسلمان کے ساتھ خیر خواہی ہی کرے گا، اس کی بدخواہی کبھی نہیں کرے گا۔ اور جب ہر مسلمان اس کردار کو اپنا لے گا تو کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کا دشمن اور بدخواہ نہیں رہے گا، بلکہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا ہمدرد اس کا معاون اور خیر خواہ ہوگا اور جس معاشرے کا یہ حال ہو اس کے خوش گوار اور پر سکون ہونے میں کیا شک وشبہ ہو سکتا ہے؟ کاش! مسلمان معاشرے اس سانچے میں ڈھل سکیں۔ (ریاض الصالحین: 1/231)
ان احادیث میں مسلمانوں کی باہمی خیر خواہی کی فضیلت اور اس کی ترغیب ہے، جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے وہی کچھ پسند کرے گا جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے تو وہ ہر معاملے میں دوسرے مسلمان کے ساتھ خیر خواہی ہی کرے گا، اس کی بدخواہی کبھی نہیں کرے گا۔ اور جب ہر مسلمان اس کردار کو اپنا لے گا تو کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کا دشمن اور بدخواہ نہیں رہے گا، بلکہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا ہمدرد اس کا معاون اور خیر خواہ ہوگا اور جس معاشرے کا یہ حال ہو اس کے خوش گوار اور پر سکون ہونے میں کیا شک وشبہ ہو سکتا ہے؟ کاش! مسلمان معاشرے اس سانچے میں ڈھل سکیں۔ (ریاض الصالحین: 1/231)