حدیث نمبر: 876
876 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چغل خوری حرام اور چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ فساد ڈالنے کی نیت سے ایک کی بات دوسرے کو پہنچانے کا نام چغلی ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ٰ نے کافر کے متعلق فرمایا: ﴿هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ﴾ (نٓ: 11) ”بہت زیادہ ملامت کرنے والا، بہت زیادہ چغلی کرنے والا ہے۔ “
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو قبروں کے پاس سے گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی بات پر عذاب نہیں ہو رہا تاہم وہ بڑی بھی ہے: ایک تو ان میں سے چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔ “ [بخاري: 318]
چغلی کے متعلق ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ “ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور بتائیے) فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے۔ کیا میں تمہیں تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ “ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور بتائیے) فرمایا: ”بے شک تمہارے بدترین وہ ہیں جو چغلی کھانے والے ہیں، دوست واحباب کے درمیان فساد ڈالنے والے ہیں اور بے گناہوں کو دشواری میں ڈالنے والے ہیں۔ “ [المعجم الكبير: 423 جزء: 23، وسنده حسن]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چغل خوری حرام اور چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ فساد ڈالنے کی نیت سے ایک کی بات دوسرے کو پہنچانے کا نام چغلی ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ٰ نے کافر کے متعلق فرمایا: ﴿هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ﴾ (نٓ: 11) ”بہت زیادہ ملامت کرنے والا، بہت زیادہ چغلی کرنے والا ہے۔ “
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو قبروں کے پاس سے گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی بات پر عذاب نہیں ہو رہا تاہم وہ بڑی بھی ہے: ایک تو ان میں سے چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔ “ [بخاري: 318]
چغلی کے متعلق ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ “ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور بتائیے) فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے۔ کیا میں تمہیں تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ “ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور بتائیے) فرمایا: ”بے شک تمہارے بدترین وہ ہیں جو چغلی کھانے والے ہیں، دوست واحباب کے درمیان فساد ڈالنے والے ہیں اور بے گناہوں کو دشواری میں ڈالنے والے ہیں۔ “ [المعجم الكبير: 423 جزء: 23، وسنده حسن]