حدیث نمبر: 869
869 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ حَمْزَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَسَدِيُّ، أبنا أَبُو عَلِيٍّ، أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، أبنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَمَّارٍ الدِّمْيَاطِيُّ، أبنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا عِنْدَ اللَّهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رخے آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اللہ کے ہاں امین ہو۔“
وضاحت:
تشریح: -
دو رُخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو دوغلا پن اختیار کرے، ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ باور کرائے کہ وہ اس کا خیر خواہ اور اس کے مخالفین کا دشمن ہے لیکن جب مخالفین کے پاس جائے تو وہاں بھی یہی تاثر دے کہ وہ ان کا خیر خواہ اور ان کے مخالفین کا دشمن ہے۔ ایسے شخص کا اپنا ذاتی کوئی کردار نہیں ہوتا وہ محض دنیا کمانے کے لیے ادھر کا بھی ہو جاتا ہے اور ادھر کا بھی ہو جاتا ہے، بھلا ایسا شخص اللہ تعالیٰ ٰ کے ہاں کیسے امین بن سکتا ہے؟ یہ تو بدترین انسان ہے جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے۔ مزید دیکھئے حدیث نمبر 606۔
دو رُخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو دوغلا پن اختیار کرے، ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ باور کرائے کہ وہ اس کا خیر خواہ اور اس کے مخالفین کا دشمن ہے لیکن جب مخالفین کے پاس جائے تو وہاں بھی یہی تاثر دے کہ وہ ان کا خیر خواہ اور ان کے مخالفین کا دشمن ہے۔ ایسے شخص کا اپنا ذاتی کوئی کردار نہیں ہوتا وہ محض دنیا کمانے کے لیے ادھر کا بھی ہو جاتا ہے اور ادھر کا بھی ہو جاتا ہے، بھلا ایسا شخص اللہ تعالیٰ ٰ کے ہاں کیسے امین بن سکتا ہے؟ یہ تو بدترین انسان ہے جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے۔ مزید دیکھئے حدیث نمبر 606۔