کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: استغفار کے ساتھ کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ کوئی گناہ صغیر نہیں رہتا
حدیث نمبر: 853
853 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ قَدِمَ عَلَيْنَا، أبنا أَبُو سَعِيدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَبُو عَبَّادٍ ذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَخِي أَبِي زُرْعَةَ، ثنا عَمِّي، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو شَيْبَةَ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا كَبِيرَةَ مَعَ اسْتِغْفَارٍ، وَلَا صَغِيرَةَ مَعَ إِصْرَارٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استغفار کے ساتھ کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ کوئی گناہ صغیرہ نہیں رہتا۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کبائر کتنے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: سات سو تک ہیں اور بہت قریبی سات تک ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ استغفار کے ساتھ کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ کوئی گناہ صغیرہ نہیں رہتا۔ [تفسير ابن ابي حاتم: 934/3 النساء: ۳۱، وسنده صحيح]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 853
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث إسناده ضعیف، ابوشیبہ خراسانی مجہول ہے ۔ دیکھئے : «السلسلة الضعيفة : 4810»