کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: اسلام میں صرورہ (گوشہ نشینی اختیار کرنا، شادی نہ کرنا یا استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا) نہیں
حدیث نمبر: 842
842 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْفَقِيهُ الشَّافِعِيُّ، أبنا هِشَامُ بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ، أبنا أَبُو جَعْفَرٍ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّحَاوِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي الْخُوَارِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ» قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ: «لَمْ نَجِدْ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثًا مُتَّصِلَ الْإِسْنَادِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں صرورہ نہیں۔“ ابوجعفر طحاوی نے کہا: ہم نے اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس حدیث کے علاوہ کوئی متصل الاسناد حدیث نہیں پائی۔
حدیث نمبر: 843
843 - أنا ذُو النُّونِ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو الْقَاسِمِ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّقَطِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں صرورہ نہیں ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
عکرمہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام میں صرور ہ نہیں ہے، دور جاہلیت میں کوئی آدمی کسی آدمی کے چہرے پر تھپڑ مارتا اور کہتا: بے شک یہ صرورہ ہے۔ عکرمہ سے کہا گیا: صرورہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ (لوگ) کہتے تھے کہ جو شخص (استطاعت کے باوجود) نہ حج کرے اور نہ عمرہ۔“ [شرح مشكل الآثار: 1282، وسنده حسن]
عکرمہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام میں صرور ہ نہیں ہے، دور جاہلیت میں کوئی آدمی کسی آدمی کے چہرے پر تھپڑ مارتا اور کہتا: بے شک یہ صرورہ ہے۔ عکرمہ سے کہا گیا: صرورہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ (لوگ) کہتے تھے کہ جو شخص (استطاعت کے باوجود) نہ حج کرے اور نہ عمرہ۔“ [شرح مشكل الآثار: 1282، وسنده حسن]