حدیث نمبر: 827
827 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الشَّاهِدُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا زَمْعَةُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔“
حدیث نمبر: 828
828 - وأنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ الْأَنْطَاكِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أنا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ الْحَرَّانِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، نا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالُوا: نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا زَمْعَةُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ". . وَذَكَرَهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعْدٍ، نَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ: «لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ . . . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ اسے امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث مبارک میں مومن آدمی کو اس بات کی تعلیم فرمائی گئی ہے کہ وہ زندگی احتیاط کے ساتھ بسر کرے، جس سوراخ سے ایک دفعہ ڈنگ کھا چکا ہو دوبارہ اس میں ہاتھ نہ ڈالے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ایک دفعہ کسی چیز یا کسی شخص کے متعلق یہ تجربہ ہو جائے کہ اس میں خیر کے بجائے شر ہے تو دوبارہ اس کے قریب نہ جائے کیونکہ آزمائے ہوئے کو آزمانا عقل مندی نہیں بے عقلی ہے جو کسی مومن کے شایان شان نہیں۔
اس حدیث مبارک میں مومن آدمی کو اس بات کی تعلیم فرمائی گئی ہے کہ وہ زندگی احتیاط کے ساتھ بسر کرے، جس سوراخ سے ایک دفعہ ڈنگ کھا چکا ہو دوبارہ اس میں ہاتھ نہ ڈالے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ایک دفعہ کسی چیز یا کسی شخص کے متعلق یہ تجربہ ہو جائے کہ اس میں خیر کے بجائے شر ہے تو دوبارہ اس کے قریب نہ جائے کیونکہ آزمائے ہوئے کو آزمانا عقل مندی نہیں بے عقلی ہے جو کسی مومن کے شایان شان نہیں۔