کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لے اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے لہٰذا تم بے نیازی اختیار کرو
حدیث نمبر: 816
816 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْفَارِسِيُّ الشِّيرَازِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْفَتْحِ، أبنا أَبُو الْحُسَيْنِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَارُونَ ابْنِ أَخِي مِيمِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَرْدَعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَدْرٍ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَتْحَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ فَاسْتَغْنُوا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لے اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے لہٰذا تم بے نیازی اختیار کرو۔“
حدیث نمبر: 817
817 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أبنا أَبُو الْفَرَجِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَهْرَيَارَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ رِيذَةَ أَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الدَّمِيرِيُّ، أبنا زَكَرِيَّا بْنُ دُوَيْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثَ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ، وَلَا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مُظْلِمَةٍ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا، فَاعْفُوا يُعِزُّكُمُ اللَّهُ، وَلَا فَتْحَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ» ، قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ وَزَكَرِيَّا بْنُ دُوَيْدٍ الْأَشْعَثِيُّ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا اور بندے کا ظلم و زیادتی سے درگزر کرنے کی وجہ سے اللہ اس کی عزت ہی بڑھاتا ہے لہٰذا تم درگزر کیا کرو اللہ تمہاری عزت بڑھائے گا اور جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لیتا ہے اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“ طبرانی نے کہا: سفیان ثوری سے اس حدیث کو صرف قاسم بن یزید جرمی اور زکریا بن دوید اشعثی نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 818
818 - نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ، نا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رِزْقَوَيْهِ الْفَقِيهُ الْبَغْدَادِيُّ، بِالنُّعْمَانِيَّةِ قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ لُؤْلُؤٍ فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ أَنَّهُ سَمِعَ قِيلَ لَهُ: حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبَانَ السَّرَّاجُ، نا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَاصِّ أَهْلِ فِلَسْطِينَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ثَلَاثَةٌ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ كُنْتُ الْحَالِفُ عَلَيْهِنَّ، مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا، وَلَا يَعْفُو عَبْدٌ عَنِ مُظْلِمَةٍ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَفْتَحُ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن پر میں ضرور قسم کھا سکتا ہوں: صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا لہٰذا تم صدقہ کیا کرو۔ اور جو بندہ اللہ عز و جل کی رضا چاہتے ہوئے کسی ظلم و زیادتی سے درگزر کرے اللہ اس کی وجہ سے روز قیامت اس کا رتبہ بلند کرے گا۔ اور جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لیتا ہے اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 819
819 - نا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الشِّيرَازِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ الْمُقْرِئُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي الْأَحْوَصِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، نا عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ، نا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ، مَا نَقَصَ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا، وَلَا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مُظْلِمَةٍ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا، اعْفُوا يَزِدْكُمُ اللَّهُ عِزًّا، وَلَا فَتْحَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، أَلَا إِنَّ الْعِفَّةَ خَيْرٌ» قِيلَ: غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں: صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا لہٰذا صدقہ کیا کرو۔ اور بندے کا کسی کی ظلم و زیادتی سے درگزر کرنے کی وجہ سے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے درگزر کیا کرو اللہ تمہاری عزت بڑھائے گا۔ اور جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لیتا ہے اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ سنو! مانگنے سے بچنے میں ہی بہتری ہے۔“ کہا گیا ہے: ابوسلمہ کی اپنے والد کی احادیث میں سے یہ حدیث نادر الوجود ہے۔
حدیث نمبر: 820
820 - أنا عَلِيُّ بْنُ بَقَاءٍ الشُّرُوطِيُّ، لَفْظًا، أنا أَبُو الْفَتْحِ، مَنْصُورُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّضْرُ بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ، نا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، نا أَبُو بَكْرٍ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ الْبَغْدَادِيُّ، نا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَاضِي، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: شَتَمَ رَجُلٌ أَبَا بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَلَحِقَهُ، فَقَالَ لَهُ: «كَانَ يَشْتُمُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ» ، قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ قَعَدَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا رہے تھے جب اس نے زیادہ بدتمیزی کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی کسی بات کا جواب دے دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ کے پاس گئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا جبکہ آپ بھی تشریف فرما تھے لیکن جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تیرے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا لیکن جب تو نے اسے جواب دیا تو شیطان واقع ہو گیا پس میں ایسا نہیں ہوں کہ شیطان کے ساتھ بیٹھوں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! یہ چیزیں برحق ہیں، انہیں سیکھ لو: جس شخص پر کوئی ظلم و زیادتی کی جائے پھر وہ اس سے چشم پوشی کرے تو اس کے بدلے میں اللہ اسے قوت و نصرت سے نوازتا ہے۔ اور جو شخص تصدیق اور صلہ رحمی کرتے ہوئے عطیہ کا دروازہ کھول دے اللہ اس کے بدلے میں اسے زیادہ عطا فرماتا ہے۔ اور جو شخص کثرت (مال) کی خاطر مانگنے کا دروازہ کھول لے تو اللہ اس کی وجہ سے اسے مزید قلت فرما دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 821
821 - نا عَلِيُّ بْنُ بَقَاءٍ، نا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُمَرَ الصَّيْرَفِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو الطَّاهِرِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيُّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْتَحُ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، يَأْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلًا فَيَعْمِدُ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَأْكُلُ بِهِ خَيْرٌ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ مُعْطًى أَوْ مَمْنُوعًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھول لیتا ہے اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے، آدمی کوئی رسی لے کر پہاڑ (یا جنگل) کی طرف جائے اور اپنی کمر پر لکڑیوں کا گٹھڑا اٹھا لائے پھر (اسے بیچ کر) اس سے کھائے یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ لوگوں سے مانگتا پھرے (آگے سے) اسے کچھ ملے یا نہ ملے۔“
حدیث نمبر: 822
822 - وأنا أَبُو طَاهِرٍ الْمَوْصِلِيُّ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَرْبٍ الْأَنْمَاطِيُّ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْتَحُ أَحَدُكُمْ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص بھی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھولے گا اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دے گا۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں لوگوں سے بلاوجہ مانگنے پر وعید بیان فرمائی گئی ہے کہ جو شخص مال و دولت جمع کرنے اور خواہشات کی تکمیل کے لیے لوگوں سے مانگنا شروع کر دے اللہ تعالیٰ اس پر فقر ومحتاجی کے دروازے کھول دیتا ہے پھر اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے اسے بھی ختم کر دیتا ہے۔ چنانچہ بھوک و افلاس ہر طرف سے اس کو گھیر لیتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جو شخص بلا وجہ لوگوں سے مانگنے لگ جائے اور اسی چیز کو اپنا پیشہ بنالے اس کے پاس اولا تو مال جمع ہوتا ہی نہیں اور اگر ہو بھی جائے تو وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا بلکہ جمع کر کے چھوڑ جاتا ہے۔ اس کے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ ایسے شخص کی مثال بالکل اس کتے کی سی ہے جو منہ میں ٹکڑا لیے کسی صاف وشفاف پانی میں جھانکے اور اس میں اپنا عکس دیکھ کر یہی سمجھے کہ یہ دوسرا کتا ہے میں اس کے منہ سے ٹکڑا چھین لوں اور پھر منہ پھاڑ کر حملہ کر دے تو اپنا ٹکڑا بھی کھو بیٹھے۔
ان احادیث میں لوگوں سے بلاوجہ مانگنے پر وعید بیان فرمائی گئی ہے کہ جو شخص مال و دولت جمع کرنے اور خواہشات کی تکمیل کے لیے لوگوں سے مانگنا شروع کر دے اللہ تعالیٰ اس پر فقر ومحتاجی کے دروازے کھول دیتا ہے پھر اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے اسے بھی ختم کر دیتا ہے۔ چنانچہ بھوک و افلاس ہر طرف سے اس کو گھیر لیتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جو شخص بلا وجہ لوگوں سے مانگنے لگ جائے اور اسی چیز کو اپنا پیشہ بنالے اس کے پاس اولا تو مال جمع ہوتا ہی نہیں اور اگر ہو بھی جائے تو وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا بلکہ جمع کر کے چھوڑ جاتا ہے۔ اس کے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ ایسے شخص کی مثال بالکل اس کتے کی سی ہے جو منہ میں ٹکڑا لیے کسی صاف وشفاف پانی میں جھانکے اور اس میں اپنا عکس دیکھ کر یہی سمجھے کہ یہ دوسرا کتا ہے میں اس کے منہ سے ٹکڑا چھین لوں اور پھر منہ پھاڑ کر حملہ کر دے تو اپنا ٹکڑا بھی کھو بیٹھے۔