کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: جس چیز میں رفق ہوا سے یہ خوشنما بنا دیتی ہے اور جس چیز میں اکھٹرپن ہوا سے یہ بدنما بنا دیتی ہے
حدیث نمبر: 793
793 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ الْمُقْرِئُ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَعْسَمُ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، هَاشِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا كَثِيرُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَمَا كَانَ الْخُرْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں رفق ہو وہ اسے خوشنما بنا دیتی ہے اور جس چیز میں اکھڑپن ہو وہ اسے بدنما بنا دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 793
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه الادب المفرد : 466»
حدیث نمبر: 794
794 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أبنا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ، وَمَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں بے حیائی ہو وہ اسے بدنما بنا دیتی ہے اور جس چیز میں حیا ہو وہ اسے خوشنما بنا دیتی ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ نرمی اور حیا دو ایسی خصلتیں ہیں کہ جس انسان کو یہ مل جائیں تو گویا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں مل گئیں، وہ شخص نہ صرف لوگوں میں ہر دلعزیز اور محبوب ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ ٰ کے ہاں بھی مقبول اور پسندیدہ لوگوں میں ہو جائے گا، اس سے بڑی زینت اور خوبصورتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان خالق اور مخلوق دونوں کے ہاں محبوب بن جائے؟ نرمی اور حیا کے مقابلے میں اکھڑپن اور بے حیائی ہے یہ دونوں جس کے اندر آجائیں وہ دنیا اور آخرت کی بھلائیوں سے محروم ہو گیا، ایسا انسان خالق اور مخلوق دونوں کے ہاں ناپسندیدہ ہے، انسان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا دھبہ ہوگا کہ وہ خالق اور مخلوق کے نزدیک ناپسندیدہ ہو؟ بہر حال نرمی اور حیا میں خیر ہی خیر ہے جبکہ سختی اور بے حیائی میں شر ہی شر ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 794
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 1974، 3301، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3697، 4185، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12129»