کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: رحمت کسی بد بخت ہی سے چھینی جاتی ہے
حدیث نمبر: 772
772 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أبنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نُزِعَتِ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمت کسی بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ صفت رحمت سے وہی لوگ متصف ہوتے ہیں جو اپنا دامن گناہوں سے محفوظ رکھیں، اللہ تعالیٰ ٰ ایسے لوگوں کے دل نرم فرما دیتا ہے لہٰذا وہ اس کی مخلوق پر رحم کرنے لگتے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو گناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوں، ان کے دل سے رحمت کا مادہ چھین لیا جاتا ہے۔ شقاوت اور بدبختی ان کا مقدر بن جاتی ہے لہٰذا وہ رحم سے دور ہو جاتے ہیں، ان کے اندر سے وہ جذ بہ ختم بلکہ مر جاتا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ ٰ کی مخلوق پر رحم اور شفقت کرنے پر مائل کرتا ہے گویا دل کا سخت ہوتا بدبختی اور دل کا نرم ہونا نیک بختی کی علامت ہے
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 772
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 462، 466، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7727، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4942، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1923، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16740، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8116»