کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: جب تم میں سے کوئی شخص آرزو کرے تو اسے دیکھ لینا چاہئے کہ وہ کس چیز کی آرزو کر رہا ہے کیونکہ اسے علم نہیں کہ اس کی آرزو میں سے اس کے لئے کیا کچھ لکھا جائے گا
حدیث نمبر: 768
768 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی: ”جب تم میں سے کوئی شخص آرزو کرے تو اسے دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس چیز کی آرزو کر رہا ہے کیونکہ اسے علم نہیں کہ اس کی آرزو میں سے اس کے لیے کیا کچھ لکھا جائے گا۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ آرزو اور تمنا سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے کیونکہ انسان نہیں جانتا کہ جو چیز وہ مانگ رہا ہے اس کے حق میں بہتر ہے یا نقصان دہ؟ انسان کو علم نہیں کہ میرے لیے کون سی خواہش مفید ہے اور کون سی مضر؟ اگر غلط خواہش کرے گا تو ممکن ہے کہ اسے وہی مل جائے یوں اس کی خواہش اور آرزو ہی اس کے نقصان کا باعث بن جائے لہٰذا انسان کو چاہیے کہ ہمیشہ اچھی چیز کی خواہش کرے اور اللہ تعالیٰ ٰ سے اس کی رحمت اور بھلائی کا طلب گار رہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 768
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه أحمد : 357/2، الادب المفرد : 794، طيالسي : 2462»