کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: جب تجھے غصہ آئے تو خاموش ہوجا
حدیث نمبر: 764
764 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ بیان کیا: ”جب تجھے غصہ آئے تو خاموش ہو جا۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہوا ہو تو بیٹھ جائے، اگر غصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔ [ابوداؤد: 4782، وسنده صحيح]
❀ ابووائل القاص کا بیان ہے، کہتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد سعدی کے ہاں گئے ایک آدمی نے ان سے کوئی بات کی تو انہیں غصہ آ گیا وہ اٹھے اور وضو کیا پھر واپس آئے اور بیان کیا کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا عطیہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے۔ [ابوداوو: 4784، وسنده حسن]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 764
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الادب المفرد : 1320 ، أحمد : 1/365، شعب الايمان : 7935»لیث بن ابی سلیم ضعیف و مدلس ہے ۔