حدیث نمبر: 746
746 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ أبنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِغُ بِجُرْجَانَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شُعَيْبٍ الْغَازِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ الْمَكِّيُّ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ الْغَازِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ وَمُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ مَنْ أَحْبَبْتَ فَإِنَّكَ مَفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيُّ بِهِ " قَالَ الْقَاضِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامَةَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ عَلِيٍّ الْقُضَاعِيُّ: وَجَدْتُ الزِّيَادَةَ فِي الْحَدِيثَيْنِ: آتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: " يَا مُحَمَّدُ عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ مَنْ أَحْبَبْتَ فَإِنَّكَ مَفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيُّ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ شَرَفُ الْمُؤْمِنِ قِيَامُهُ بِاللَّيْلِ، وَعِزُّهُ اسْتَغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے محمد! آپ جتنا چاہیں جی لیں بالآخر آپ نے موت سے ہمکنار ہونا ہے۔ جس سے چاہیں دل لگا لیں بالآخر آپ نے اس سے جدا ہونا ہے اور جو چاہیں عمل کر لیں بالآخر آپ نے اس کی جزا پانی ہے۔“ قاضی ابوعبد اللہ محمد بن سلامہ بن جعفر بن علی القصائی نے کہا: میں نے ان دو حدیثوں میں یہ الفاظ زیادہ پائے ہیں: ”جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا: اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ جتنا چاہیں جی لیں بالآخر آپ نے موت سے ہمکنار ہونا ہے۔ جس سے چاہیں دل لگا لیں بالآخر آپ نے اس سے جدا ہونا ہے۔ اور جو چاہیں عمل کر لیں بالآخر آپ نے اس کی جزا پانی ہے۔“ پھر کہا: ”اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) مومن کا شرف اس کے قیام اللیل میں ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔“