کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا
حدیث نمبر: 745
745 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ النَّحَّاسِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، أبنا أَبُو شِهَابٍ، ثنا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا غُلَامُ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إِلَيْهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْخَلَائِقَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يُعْطُوكَ شَيْئًا لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُعْطِيَكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، أَوْ يَصْرِفُوا عَنْكَ شَيْئًا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَكَ بِهِ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَى ذَلِكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَسَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأًنَّ مَعَ الْعُسْرِ يَسِّرًا، وَاعْلَمْ أَنَّ الْقَلَمَ جَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لڑکے! تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا۔ تو اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ تو اسے خوشحالی میں پہچان وہ تجھے (تیری) تنگی میں پہچانے گا۔ اور جان لے کہ بے شک جو تجھے پہنچ گیا ہے وہ تجھ سے ٹل نہیں سکتا تھا اور جو تجھ سے ٹل گیا ہے وہ تجھے پہنچ نہیں سکتا اور جان لے کہ بے شک اگر ساری مخلوق اس بات پر جمع ہو جائے کہ تجھے کوئی چیز عطا کرے جبکہ اللہ تجھے وہ چیز عطا نہ کرنا چاہتا ہو تو وہ (ساری مخلوق) اپنے فیصلے پر قادر نہیں ہو سکتی۔ یا وہ (ساری مخلوق) تجھ سے کوئی چیز چھیننا چاہے جبکہ اللہ تجھے وہ چیز عطا کرنا چاہے تو وہ (ساری مخلوق) اپنے فیصلے پر قادر نہیں ہو سکتی۔ اور جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر۔ اور جب تو مدد چاہے تو اللہ سے مدد طلب کر۔ اور جان لے کہ بے شک مدد صبر کے ساتھ ہے اور کشادگی تکلیف کے ساتھ ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے اور جان لے کہ بے شک جو کچھ ہونے والا ہے قلم اسے لکھ چکا ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے! میں تجھے چند اہم باتیں بتاتا ہوں: تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا۔ تو اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر۔ اور جب تو مدد چاہے تو اللہ سے مدد طلب کر اور یہ بات جان لے کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تجھے کچھ نفع پہچانا چاہے تو وہ تجھے اس سے زیادہ کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے اور اگر وہ تجھے کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ (اور) قلم اٹھا لیے گئے ہیں (یعنی لکھ کر فارغ ہو چکے ہیں) اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔ [ترمذي: 3516، وسنده صحيح]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 745
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه المعجم الكبير : 11243، شعب الايمان : 9529، حاكم : 6358» عیسی بن محمد قرشی ضعیف ہے ۔