حدیث نمبر: 733
733 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الضَّرَّابُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ، ثنا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُزَيْمَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ وہ بادلوں کے اوپر اٹھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مجھے میری عزت اور جلالت کی قسم! میں ضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ عرصے بعد ہی کروں۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی: عادل حکمران، روزہ دار کی دعا یہاں تک کہ وہ افطار کرلے، اور مظلوم کی دعا، اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت بادلوں سے بھی اوپر اٹھا لے گا، اس (کی دعا) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اللہ فرماتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم! میں ضرور بالضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ عرصہ بعد ہی کروں۔“ [ابن ماجه: 1752، وسند و حسن]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو جب عامل بنا کر یمن بھیجا تو آپ نے (انہیں) فرمایا: ”مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“[بخاري: 2448]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی: عادل حکمران، روزہ دار کی دعا یہاں تک کہ وہ افطار کرلے، اور مظلوم کی دعا، اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت بادلوں سے بھی اوپر اٹھا لے گا، اس (کی دعا) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اللہ فرماتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم! میں ضرور بالضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ عرصہ بعد ہی کروں۔“ [ابن ماجه: 1752، وسند و حسن]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو جب عامل بنا کر یمن بھیجا تو آپ نے (انہیں) فرمایا: ”مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“[بخاري: 2448]