حدیث نمبر: 703
703 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ دَاوُدَ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی: ”فجر کو خوب روشن کرو کیونکہ وہ ثواب میں زیادہ باعث اجر ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اہل علم کہتے ہیں کہ نماز فجر کو خوب روشن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز فجر اندھیرے میں شروع کر کے قرات اتنی لمبی کی جائے حتی کہ روشنی ہو جائے کیونکہ ایک حدیث میں ہے ”فجر کی نماز پڑہتے پڑہتے تم جس قدر بھی روشنی کرو گے وہ تمہارے لیے زیادہ باعث اجر ہے“ [نسائي: 550، وسنده صحيح]
ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ روشنی سے مراد افق یعنی آسمان کے کنارے پر روشنی ہے نہ کہ زمین پر مطلب یہ ہے کہ نماز اس وقت پڑھی جائے جب مشرقی افق خوب روشن ہو جائے البتہ زمین پر اندھیرا ہی رہے یہ مفہوم بھی آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے مطابقت رکھتا ہے حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑہتے اور اس کے بعد عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی واپس لوٹتیں تو اندھیرے کے باعث پہچانی نہ جاتی تہیں۔ “ [بخاري: 867]
بعض علماء کرام کا یہ بہی کہنا ہے کہ یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے کیونکہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم وفات تک اندھیرے میں نماز پڑہتے رہے ہیں چنانچہ حدیث میں ہے کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ایک دفعہ اندھیرے میں پڑھی اور ایک دفعہ پڑھی تو روشن کر دی مگر اس کے بعد آپ کی نماز اندھیرے ہی میں ہوا کرتی تھی کہ آپ کی وفات ہو گئی اور کبھی روشن نہ کی۔ “ [أبو داود: 394، وسند و حسن]
اہل علم کہتے ہیں کہ نماز فجر کو خوب روشن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز فجر اندھیرے میں شروع کر کے قرات اتنی لمبی کی جائے حتی کہ روشنی ہو جائے کیونکہ ایک حدیث میں ہے ”فجر کی نماز پڑہتے پڑہتے تم جس قدر بھی روشنی کرو گے وہ تمہارے لیے زیادہ باعث اجر ہے“ [نسائي: 550، وسنده صحيح]
ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ روشنی سے مراد افق یعنی آسمان کے کنارے پر روشنی ہے نہ کہ زمین پر مطلب یہ ہے کہ نماز اس وقت پڑھی جائے جب مشرقی افق خوب روشن ہو جائے البتہ زمین پر اندھیرا ہی رہے یہ مفہوم بھی آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے مطابقت رکھتا ہے حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑہتے اور اس کے بعد عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی واپس لوٹتیں تو اندھیرے کے باعث پہچانی نہ جاتی تہیں۔ “ [بخاري: 867]
بعض علماء کرام کا یہ بہی کہنا ہے کہ یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے کیونکہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم وفات تک اندھیرے میں نماز پڑہتے رہے ہیں چنانچہ حدیث میں ہے کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ایک دفعہ اندھیرے میں پڑھی اور ایک دفعہ پڑھی تو روشن کر دی مگر اس کے بعد آپ کی نماز اندھیرے ہی میں ہوا کرتی تھی کہ آپ کی وفات ہو گئی اور کبھی روشن نہ کی۔ “ [أبو داود: 394، وسند و حسن]