کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: کنجوسی سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا
حدیث نمبر: 685
685 - أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، أبنا أَبُو عَلِيٍّ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا حُسَيْنٌ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْلَمَةَ، نا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ: «اتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔।۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ اور اسے امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ”کنجوسی سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 685
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه أبو داود : 1698، وأحمد : 2/ 159 عن عبدالله بن عمرو مسلم : 2578، عن جابر»
حدیث نمبر: 686
686 - وَأَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْبَارِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، أنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا الْحُسَيْنُ، هُوَ الْجُعْفِيُّ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ روایت ایک دوسری سند سے بھی حسین الجعفی رحمہ اللہ سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث میں کنجوسی و بخل کی مذمت فرمائی گئی ہے، یہ اتنی خطر ناک بیماری ہے کہ اس نے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب انسان کے اندر مال و دولت کی محبت حد سے بڑھ جائے تو پھر وہ کمینے پن پر اتر آتا ہے، اس میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہو جاتی ہے وہ لوگوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ظاہر ہے کہ جس معاشرے کا یہ حال ہو جائے اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں، وہ کسی بھی وقت ہلاکت سے دو چار ہو سکتا ہے جیسا کہ سابقہ اقوام کے ساتھ ہوا، وہ ایک دوسرے کا مال ہتھیانے پر اتر آئے، جنگیں ہوئیں، فتنے رونما ہوئے، حرمتیں پامال ہوئیں، یہ ان کی دنیا میں ہلاکت و بربادی تھی جبکہ آخرت کی بربادی جنت سے محرومی اور جہنم میں داخلہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُم بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ‎﴾ (آل عمران: 180)
اور وہ لوگ جو اس میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے ہرگز گمان نہ کریں کہ وہ ان کے لیے اچھا ہے بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب قیامت کے دن انہیں اس چیز کا طوق پہنایا جائے گا جس میں انہوں نے بخل کیا اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی میراث ہے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو پورا باخبر ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 686
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي : 11519»