حدیث نمبر: 668
668 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا أَبُو عُمَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ديزَوَيْهِ بْنِ شَاسَرْوَيْهِ الدِّمَشْقِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَادِمِ اللَّذَّاتِ، فَمَا ذَكَرَهُ عَبْدٌ قَطُّ وَهُوَ فِي ضِيقٍ إِلَّا وَسَّعَهُ عَلَيْهِ، وَلَا ذَكَرَهُ وَهُوَ فِي سَعَةٍ إِلَّا ضَيَّقَهُ عَلَيْهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو تباہ کرنے والی (موت) کو کثرت سے یاد کرو کیونکہ جس بندے نے بھی اسے تنگی میں یاد کیا ہے اس کے لیے اس نے وسعت پیدا کی ہے اور جس نے اسے وسعت میں یاد کیا ہے اس کے لیے اس نے تنگی پیدا کی ہے۔“
حدیث نمبر: 669
669 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَذَكَرَهُ.
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 670
670 - وَأَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ نا أَبُو الْفَضْلِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَادِمِ اللَّذَّاتِ» وَذَكَرَهُ وَقَالَ فِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو تباہ کرنے والی (موت) کو کثرت سے یاد کرو۔“ اور انہوں نے اسے بیان کرتے ہوئے اس میں کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔।۔۔۔ اور اسے بیان کیا۔
حدیث نمبر: 671
671 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ الْحَرْبِيُّ، نا أَبُو عُمَرَ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ نا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ثِقَةٌ، نا أَبُو عَامِرٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيَّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ، فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ فِي كَثِيرٍ إِلَّا قَلَّلَهُ، وَلَا فِي قَلِيلٍ إِلَّا كَثَّرَهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو تباہ کرنے والی (موت) کو کثرت سے یاد کرو کیونکہ وہ (موت کی یاد) مال کی زیادتی میں ہو تو اس (مال) کو کم کر دیتی ہے اور (اگر) مال کی کمی میں ہو تو اسے زیادہ کر دیتی ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
یہ حدیث مبارک نصیحت اور انذار کے حوالے سے بڑی فصیح و بلیغ اور جامع ہے، موت کو کما حقہ یاد رکھنے والا شخص دنیا کی لذتوں میں انہمام اور معصیتوں کے ارتکاب سے باز آ جاتا ہے، اس کے نزدیک دنیا کی لذتیں ہیچ ہو جاتی ہیں اور سب سے بڑی چیز یہ کہ وہ غفلت دور ہو جاتی ہے جو انسان کے لیے نیک اعمال کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے، لہٰذا موت کو کثرت سے یاد کرنا چاہیے اور موت کے بعد پیش آنے والے حالات سے کبھی غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ جو بندہ تنگی کی حالت میں موت کو یاد کرتا ہے اس کے لیے وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور جو وسعت کی حالت میں اسے یاد کرتا ہے اس کے لیے تنگی پیدا ہو جاتی ہے، یعنی موت کی یاد انسان کو راہ اعتدال پر لے آتی ہے، تنگ دست کی تنگ دستی ہیچ اور مال دار کا مال بے حقیقت، تنگ دست جب کثرت سے موت کو یاد کرتا ہے تو دنیا کو خالی سمجھ کر وہ تھوڑے مال پر قناعت کرنے لگ جاتا ہے لہٰذا اسے تھوڑا مال بھی زیادہ ہی معلوم ہونے لگتا ہے اور مال دار جب کثرت سے موت کو یاد کرتا ہے تو اس کی نظر دنیا کے عارضی مستقبل کی بجائے آخرت کے کبھی نہ ختم ہونے والے مستقبل پر لگ جاتی ہے، دنیا کا مال اس کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے اس لیے دنیا کا زیادہ مال بھی اسے کم ہی محسوس ہوتا ہے۔
یہ حدیث مبارک نصیحت اور انذار کے حوالے سے بڑی فصیح و بلیغ اور جامع ہے، موت کو کما حقہ یاد رکھنے والا شخص دنیا کی لذتوں میں انہمام اور معصیتوں کے ارتکاب سے باز آ جاتا ہے، اس کے نزدیک دنیا کی لذتیں ہیچ ہو جاتی ہیں اور سب سے بڑی چیز یہ کہ وہ غفلت دور ہو جاتی ہے جو انسان کے لیے نیک اعمال کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے، لہٰذا موت کو کثرت سے یاد کرنا چاہیے اور موت کے بعد پیش آنے والے حالات سے کبھی غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ جو بندہ تنگی کی حالت میں موت کو یاد کرتا ہے اس کے لیے وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور جو وسعت کی حالت میں اسے یاد کرتا ہے اس کے لیے تنگی پیدا ہو جاتی ہے، یعنی موت کی یاد انسان کو راہ اعتدال پر لے آتی ہے، تنگ دست کی تنگ دستی ہیچ اور مال دار کا مال بے حقیقت، تنگ دست جب کثرت سے موت کو یاد کرتا ہے تو دنیا کو خالی سمجھ کر وہ تھوڑے مال پر قناعت کرنے لگ جاتا ہے لہٰذا اسے تھوڑا مال بھی زیادہ ہی معلوم ہونے لگتا ہے اور مال دار جب کثرت سے موت کو یاد کرتا ہے تو اس کی نظر دنیا کے عارضی مستقبل کی بجائے آخرت کے کبھی نہ ختم ہونے والے مستقبل پر لگ جاتی ہے، دنیا کا مال اس کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے اس لیے دنیا کا زیادہ مال بھی اسے کم ہی محسوس ہوتا ہے۔