کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: اچھی بات کہو فائدہ میں رہو گے اور بری بات سے خاموش رہو سلامتی میں رہو گے
حدیث نمبر: 666
666 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْجِيزِيُّ، أبنا أَبُو عَمْرٍو زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي وَهْبٍ، ثنا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قُولُوا خَيْرًا تَغْنَمُوا، وَاسْكُتُوا عَنْ شَرٍّ تَسْلَمُوا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی بات کہو فائدہ میں رہو گے اور بری بات سے خاموش رہو سلامتی میں رہو گے۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ اچھی بات کرنے اور بری بات سے خاموش رہنے میں ہی دینی ودنیوی، روحانی و جسمانی فوائد ہیں اور سلامتی بھی اسی میں ہے کہ انسان زبان سے کلمہ خیر ہی نکالے ورنہ چپ رہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر 1 47۔
مطلب یہ ہے کہ اچھی بات کرنے اور بری بات سے خاموش رہنے میں ہی دینی ودنیوی، روحانی و جسمانی فوائد ہیں اور سلامتی بھی اسی میں ہے کہ انسان زبان سے کلمہ خیر ہی نکالے ورنہ چپ رہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر 1 47۔