کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: دنیا میں ایسے رہو گویا ایک پردیسی ہو یا گویا ایک راہ گیر ہو اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو
حدیث نمبر: 644
644 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ: «كُنَّ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ كَأَنَّكَ عَابِرُ سَبِيلٍ، وَعَدَّ نَفْسَكَ فِي أَصْحَابِ الْقُبُورِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”دنیا میں ایسے رہو گویا ایک پردیسی ہو یا گویا ایک راہ گیر ہو اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے پکڑ کر فرمایا: ”دنیا میں ایسے رہو گویا ایک پردیسی یا راہ گیر ہو۔ “ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ” جب شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو اور اپنی صحت میں بیماری کے لیے اور اپنی زندگی میں موت کے لیے (کچھ) حاصل کر لو۔ “ [بخاري: 6416]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے پکڑ کر فرمایا: ”دنیا میں ایسے رہو گویا ایک پردیسی یا راہ گیر ہو۔ “ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ” جب شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو اور اپنی صحت میں بیماری کے لیے اور اپنی زندگی میں موت کے لیے (کچھ) حاصل کر لو۔ “ [بخاري: 6416]