کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: اسے باندھ اور (پھر اللہ پر ) توکل کر
حدیث نمبر: 633
633 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أبنا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَيِّدُ رَاحِلَتِي وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ أَوْ أَرْسِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ؟، قَالَ: «قَيِّدْهَا وَتَوَكَّلْ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی سواری کو باندھوں اور (پھر) اللہ پر توکل کروں یا اسے چھوڑ دوں اور توکل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے باندھ اور (پھر اللہ پر) توکل کر۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ اسباب کو بروکار لاتے ہوئے پھر اللہ تعالیٰ ٰ کی ذات پر تو کل کیا جائے، صرف ظاہری اسباب پر ہی بھروسا کر بیٹھنا یا اسباب کو بالکل ہی نظر انداز کر دینا شریعت سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف حکم آگیا ہے کہ سواری کو باندھ اور پھر اللہ پر بھروسا کر۔ گویا ظاہری اسباب کو اختیار کرنے کا حکم فرما دیا ہے۔ ہاں بھروسا اور یقین اسباب پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ٰ کی ذات پر ہونا چاہیے کیونکہ مشیت الہی کے بغیر اسباب! کچھ نہیں کر سکتے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 633
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه ابن حبان : 731، وحاكم : 623/3، وشعب الايمان : 1158»